جاپان میں شرح زچگی میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان میں شرح زچگی مسلسل چوتھے سال بھی کم ہوئی ہے اور اب یہ کمی ریکارڈ حد تک گرگئی ہے۔ سن دو ہزار تین میں جاپان کی شرح زچگی ایک عشاریہ انتیس ہوگئی تھی اور یہ سن دو ہزار چار میں ایک عشاریہ اٹھائیس ہوئی۔ اس شرح سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اوسطاً جاپانی عورت کے کتنے بچے ہونگے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس شرح میں کمی سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جاپانی حکومت کی زیادہ بچوں کی پیدائش کی مہم نا کام ہوئی ہے۔ جاپان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جن میں شرح پیدائش بہت کم ہے۔ اس ان میں ملازمت کرنے والی ماؤں کے لیے چائلڈ کیر سنٹرز اور دیگر اور سہولتیں شامل ہیں۔ لیکن جاپانی خواتین کہتی ہیں کہ مخص ان سہولتوں کی موجودگی سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا کیونکہ ان کا اصل مسئلہ معاشرے میں روایتی توقعات سے ہے۔ مردوں سے توقع کی جاتی ہے کہ دفتر میں دیر تک کام کریں جبکہ خواتین سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد نوکری بالکل چھوڑدیں۔ یاد رہے کہ جاپان دنیا کے مہنگے ترین ممالک میں شامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||