خاندان کے لئے قربانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
خواتین میں دل کے امراض کے بارے میں کی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سی خواتین اپنے خاندان اور بچوں کی وجہ سے اپنی صحت کا خیال نہیں رکھتیں۔ دل کے امراض سے متعلق برطانوی ادارے بر ٹش ہارٹ فاؤنڈ یشن ، بی ایچ ایف کی جانب سے کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق دو تہائی خواتین اپنی صحت کے مقابلےمیں اپنے خاندان کے صحت کے بارے میں زیادہ فکر مند رہتی ہیں۔ سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ ایک ہزار ایک سو چّون خواتین میں سے ہر پانچویں خاتون اپنی صحت پر اپنی خاندان کو فوقیت دیتی ہے۔ یونیورسٹی آف اسیکس میں ایثار کی نفسیات کے ماہر ڈاکٹر رِک اوجرمون کا کہناہے کہ ماؤں میں اپنے خاندان اور بچوں کے لیے قربانی کاجذبہ ذیادہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ یہ ایک قدرتی امر ہے کے مائیں اپنی نسبت اپنے خاندان اور بچوں کی بھلائی کی طرف زیادہ مائل ہو تیں ہیں۔ ڈاکٹر رِک اوجرمون کا کہنا ہے کے خواتین کا اپنے خاندان اور بچوں کے لیے ایثار معاشرتی اقدار کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ اور دوسروں کی نسبت عمر رسیدہ خواتین اپنے خاندان اور بچوں کے لیے زیادہ فکرمند رہتی ہیں۔ بر ٹش ہارٹ فاؤنڈ یشن کی بیلندہ لنڈن کا کہنا ہے خواتین اپنی زندگیوں کی خود دشمن ہوتی ہیں اور اپنے خاندان اور بچوں کے لیے اپنی ضروریات تک کو نظر انداز کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس تلخ حقیقت کی وجہ سے ہزاروں عورتیں دل اور شریانوں سے متعلق بیماریوں کا شکار ہو کر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ انہو ں نے خواتین میں صحت کاشعور پیدا کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح مستقبل میں دل کی بیماریوں کے حوالے سےخواتین کی شر ح اموات پر قابو پایاجا سکتا ہے۔ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اکثر خواتین یہ سمجھتی ہیں دل کے امراض سے بر ٹش ہارٹ فاؤنڈ یشن چار جون سےخواتین میں دل کی بیماریوں کے بارے میں شعوروآ گاہی پیدا کر نے کے لیے ایک ہفتہ بھی منا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||