دو مختلف تجزیوں سے معلوم ہوا ہے کہ سی ری ایکٹو پروٹین ( C-reactive) کی خون میں کمی سے دِل کی بیماری کا خِطرہ کم ہو جاتا ہے اور اے ون اے آر پروٹین (A1AR) دمے کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق سی ری ایکٹو پروٹین کی زیادتی دِل میں خون کی نالیوں کے لیے اچھی نہیں اور اس سے رگوں کے بند ہونے کا خطرے بھی ہوتا ہے۔ امریکہ میں دمّے کے بارے میں ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سانس کی بیماریوں میں مبتلا چوہوں میں پروٹین کی مقدار کم کرنے کے ان پر منفی اثرات ہوئے۔ دنیا میں ایک کروڑ پچاس لاکھ دمے کے مرض میں مبتلا ہیں اور ان کی تعداد میں ہر دس سال میں پچاس فیصد اضافہ ہو رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق ہر سال ایک لاکھ اسّی ہزار افراد دمے سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ امریکہ کی جامعہ ٹیکساس میں ہونے والی تحقیق سے جسم میں قدرتی طور پر پائی جانے والی پروٹین کی اس قسم کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ دمے کی صورت میں پھیپھڑوں کی حفاظت کرتی ہے۔ |