ایک انار، سو بیمار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیلی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ انار کا رس دل کی بیماریوں کے لیے اکسیر ہے تحقیق دانوں کے سربراہ پروفیسر مائیکل اویرم کا کہنا تھا کہ’ انار کے رس میں دوسرے پھلوں کے رس، لال شراب اور سبز چائے کے مقابلے میں زیادہ’اینٹی اوکسیڈنٹ‘ پائے جاتے ہیں۔ حیفہ کے رمبم میڈیکل سنٹر میں کی جانے والی تحقیق سے یہ سامنے آیا ہے کہ انار کا رس اس کولیسٹرول کی مقدار کو آدھا کر دیتا ہے جو کہ شریانوں میں چکنائی کی موجودگی کا باعث بن کر دل کی بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ تحقیق دان ڈاکٹر بوگل نے کہا کہ’ انار کے رس پر اس نظریہ سے تحقیق کی جائے گی کہ روزانہ ایک گلاس انار کا رس پینے سے خون کے خلیات کے کام میں بہتری آتی ہے اور یہ شریانوں کی سختی کو کم کرنے کے ساتھ دل کی حالت کو بہتر بناتا ہے‘۔ ابتدائی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ انار کے رس میں سبز چائے اور لال شراب کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ’اینٹی اوکسیڈنٹ‘ موجود ہوتے ہیں۔ انار کو تاریخی طور پر بھی اہم پھلوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ قدیم مصری دوبارہ جی اٹھنے کے خیال کے تحت دفن کےوقت انار کو لاش کے ہمراہ دفناتے تھے۔ یونانی اساطیر میں بھی انار کا ذ کر خوشحالی کی دیوی پرسیفون کے حوالے سے کیا گیا ہے۔آج بھی یونان میں شادی کے موقع پر انار کو خوشحالی کی امید کے طور پر توڑا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||