جاپانی خاتون تخت کی حقدار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کی پارلیمنٹ خواتین کو تخت نشینی کا حق دینے کے لیے آئین میں ترمیم کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یہ ترمیم اس لیے پیش کی گئی ہے کہ تخت کے موجودہ وارث اور ان کے بہن بھائیوں کی کوئی نرینہ اولاد نہیں ہے۔ یہ تجویز جاپان کے آئین میں ہونے والی تبدیلیوں کا حصہ ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جاپان کے ولیعہد کی اہلیہ شہزادی مساکو کی بیماری اور عوامی تقریبات سے تقریباً ایک سال تک غیر حاضری کی ایک بڑی وجہ ایک مرد وارث کی پیدائش سے متعلق دباؤ بھی ہے۔ جاپان کے ایک اخبار کو حاصل ہونے والے ایک مسودہ میں کہا گیا ہے کہ تخت نشینی اب صنف کی تخصیص کی بنا پر نہیں ہو گی۔ اس مسودے میں جاپان کی سکیورٹی اور بیرون ملک مشن کے دوران فوجیوں کو ابھی تک ملک سے باہر تعینات جاپانی فوج کو صرف اپنے دفاع میں گولی چلانے کی اجازت ہے۔ جاپانی اخبار کے مطابق ایل ڈی پی ان تبدیلیوں پر اگلے ماہ غور کرے گی اور حتمی فیصلہ نومبر 2005 میں کیا جائے گا۔ جاپان میں کسی بھی قانونی تبدیلی کے لیے پارلیمنٹ اور عوامی ریفرنڈم میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹوکیو سے بی بی سی کے نمائندہ کے مطابق رائے عامہ میں تبدیلی آ رہی ہے اور زیادہ تر جاپانیوں کی نظر میں فوج کے استعمال اور خواتین کے سربراہ حکومت بننے پر پابندی جیسے قوانین فرسودہ ہو چکے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||