ایٹمی حملہ: ناگا ساکی میں سوگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جاپان کے شہر ناگاساکی میں امریکہ کی طرف سے ایٹم بم گرائے جانے کے ساٹھ سال پورے ہونے کے موقع پر مختلف تقریبات منعقد کی جارہی ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے موقع پر جاپان کے دوسرے شہر پر گرائے جانے والے اس بم حملے سے کم سے کم ستر ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ناگاساکی کے امن پارک میں منعقد کی جانے والی تقریب میں وزیر اعظم جونیچیرو کوئیزومی سمیت چھ ہزار افراد نے شرکت کی۔ بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق اس بات پر ایک نیا تنازعہ شروع ہوگیا ہے کہ ناگاساکی پر ایٹم بم سے حملہ ہیروشیما پر گرائے جانے والے بم کے تین روز بعد کیوں ہوا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس کا کہنا ہے کہ کچھ تاریخ دانوں کاخیال ہے کہ یہ حملہ اس لئے ضروری تھا کیونکہ جاپان نے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ لیکن کچھ اور مبصرین کا خیال ہے کہ یہ حملہ اس لئے کیا گیا تاکہ امریکی فوج پلوٹونیم کے جوہری ہتھیار میں استعمال کا تجربہ کر سکے۔ ہیروشیما پر گرائے جانے ایٹم بم میں یورینیم استعمال کیا گیا تھا جبکہ ناگاساکی پر گرائے جانے والے بم میں پلوٹونیم استعمال کیا گیا تھا۔ جاپانی وزیراعظم نے منگل کے روز ہونے والی بڑی سرکاری تقریب میں شرکت کے دوران کہا یہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کو یاد کرنے اور دنیا میں امن کے لئے دعا کرنے کا موقع ہے۔ ساٹھ سال پہلے جس وقت امریکی جہاز نے فیٹ مین نامی ایٹم بم شہر پر گرایا تھا ٹھیک اسی وقت منگل کے روز شہر میں امن کی گھنٹیاں بجائی گئیں۔ ناگاساکی کے مئیر کا کہنا تھا کہ ان کے شہر کو ایک نیوکلئیر تجربے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ پلوٹونیم کا ایٹن بم یورنیم بم کے مقابلے میں زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور ناگاساکی میں ہلاک ہونے والے زیادہ تر افراد بم گرنے کے فوراً بعد پگھل گئے تھے یا جل گئے تھے۔ نامہ نگاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ناگاساکی کے سانحے کو ہیروشیما کے سانحے کے مقابلے میں قدرے کم اہمیت دی جاتی ہے جہاں ایک لاکھ چالیس ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||