برطانوی فوجی پرجاسوسی کاالزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برطانوی فوجی پر’ایک دشمن ملک‘ کے لیے جاسوسی کرنے اور خفیہ راز کے افشاں کرنے کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز چوالیس سالہ ڈینئل جیمز کو لندن میں ایک مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا ہے۔ جیمز افغانستان میں غیر کمیشنڈ افسر کی طرح نیٹو افواج کے کمانڈرز کے لیے ترجمان کی حیثیت سے کام کرتے تھے۔ ان پر آفیشیل سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گيا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن نے اس بارے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔ جیمز پر دوسرے شخص کو ایسے راز دینے کا الزام ہے جس سے ملک کی سلامتی کو خطرہ پہنچ سکتا ہے اور دشمن بالواسطہ طور پر ان اطلاعات کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کرسکتا ہے۔ سماعت کے بعد سینئرڈسٹرکٹ جج ٹیموتھی ورک مین نے نامہ نگاروں کو بتایا ’مجھے کچھ ایسی باتیں بتائی گئی ہیں کہ مجھے اس سلسلے میں مزید کیمرے کے سامنے سماعت کرنی ہوگی کیونکہ یہ قومی سلامتی کامسئلہ ہے۔‘ مسٹر جیمز کو آئندہ ستائیس دسمبر تک کے لیے پولیس تحویل میں دیا گیا ہے۔ انکی ضمانت کے لیے کوئی درخواست نہیں دی گئی ہے۔ اخبار ٹائمز کے دفاعی امور کے نامہ نگارمائیکل ایوان کا کہنا ہے کہ انکی تحقیق کے مطابق جیمز افغانستان میں نیٹو افواج کے سربراہ جنرل ڈیوڈ رچرڈ کے ترجمان کا کام کرتے تھے۔ انکے مطابق انہوں نے ایران کو ہی خفیہ اطلاعات فراہم کی ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار الیسٹر لیتھ ہیڈ کا کہنا ہے کہ جیمز دری زبان بولتے ہیں اور وہ ایرانی نژاد ہیں۔ لیکن وزارت دفاع اور استغاثہ نے جیمز کی شناخت یا اخباروں میں شائع ہونے والی ان تفصیلات کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا ہے۔ | اسی بارے میں تعیناتی پورے افغانستان میں: نیٹو30 September, 2006 | آس پاس نیٹو بمباری: ’درجنوں شہری‘ ہلاک26 October, 2006 | آس پاس افغانستان: نیٹو کے ہاتھوں ستر ہلاک29 October, 2006 | آس پاس ’طالبان کی ہلاکتوں کا دعوی غلط تھا‘10 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||