BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانوی فوجی ’ہشاش بشاش‘ ہیں
ایچ ایم ایس کارنیوال
پکڑے جانے والے اہلکار بحری جہاز ’ایچ ایم ایس کارنیوال‘ پر تعینات تھے
ایران نے کہا ہے کہ اس نے چار دن قبل برطانوی بحریہ کے جن پندرہ اہلکاروں کو اپنی سمندری حدود میں غیر قانونی قانونی طور داخل ہونے کے الزام میں پکڑا تھا وہ سب صحت مند اور ہشاش بشاش ہیں۔

ایران کے ایک سینیئر اہلکار نے تہران میں برطانوی سفیر کو بتایا کہ بحری اہلکار ایران میں ہیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس مقام پر رکھا گیا ہے۔

پیر کے روز برطانوی سفیر جیفری ایڈم اور ایرانی وزارت خارجہ کے سینیئر اہلکار ابراہیم رحیم پور کے درمیان ملاقات ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔

ایرانی دفترخارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ملاقات میں ایرانی اہلکار نے برطانوی سفارتخانے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنے سے اتفاق کیا لیکن انہوں نے یہ بتانے سے معذوری ظاہر کی ایران نے فوجیوں کو رہا کرنے کے بارے میں کیا فیصلہ کیا ہے۔

ابراہیم رحیم پور کا کہنا تھا کہ ’ ایران اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘

ایران کا کہنا ہے کہ خلیج فارس سے پکڑے جانے والے اہلکاروں پر غیر قانونی طور پر ایرانی حدود میں داخل ہونے بنیاد پر مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے جبکہ عراق اور برطانیہ مسلسل اصرار کر رہے ہیں کہ ایران نے بحریہ کے اہلکاروں کو عراق کی سمندری حدود کے اندر سے پکڑا ہے۔

ملاقات کے بارے میں ایران کے سرکاری خبررساں ادارے ’ارنا‘ نے کہا ہے کہ اس میں برطانوی سفیر کو یقین دلایا گیا کہ پندرہ اہلکار، جن میں آٹھ سیلرز اور میرین فورس کے سات ارکان شامل ہیں، ہشاش بشاش ہیں۔ ان اہلکاروں میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

ملاقات کے دوران ابراہیم رحیم پور نے اتفاق کیا کہ وہ تہران میں برطانوی سفارتخانے سے مسلسل رابطے میں رہیں گے لیکن انہوں نے یہ بتانے سے معذوری کا اظہار کیا کہ ایران کا ان اہلکاروں کو رہا کرنے کے بارے میں کیا منصوبہ ہے۔

اس سے قبل ایرانی وزیرخارجہ منوچہر متقی نے نیویارک میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پکڑے جانے والے برطانوی ’ ایرانی حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے کے مرتکب پائے گئے ہیں اور اس معاملہ کو قانونی نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔‘

ایران کے وزیر خارجہ نے یہ کہتے ہوئے کہ اس معاملہ کو ’قانونی طور‘ پر دیکھا جا رہا ہے عندیہ دیا ہے کہ برطانوی فوجیوں پر مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ کے وزیر اعظم اور ان کی وزیر خارجہ ماگریٹ بیکٹ کا اصرار ہے کہ رائل نیوی کے اہلکاروں نے ایرانی حدود کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔

تنازعہ کے حل کی غرض سے ایران میں برطانوی سفیر جیفری ایڈم تہران میں حکام سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جیفری ایڈم اور ابراہیم رحیم پور کے درمیان ملاقات سے قبل برطانوی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ جیفری ایڈم کی تہران میں ایرانی وزارت خارجہ میں افسران سے ملاقات کا مقصد ایران پر دوبارہ ’ہمارے فوجیوں کی رہائی پر زور دینا اور کونسلر کے ساتھ ملاقات کے لیے درخواست کرنا تھا۔‘

 برطانوی فوجیوں کو اس وقت ایرانی اہلکاروں نے بندوق کی نوک پر قبضے میں لے لیا تھا جب وہ ایک عراقی کشتی کا معائنہ کرنے کے بعد اپنی چھوٹی کشتیوں کی جانب آ رہے تھے جن کے ذریعے انہیں واپس اپنے بحری جہاز ’ایچ ایم ایس کارنیوال‘ پر جانا تھا۔

برطانوی فوجیوں کو اس وقت ایرانی اہلکاروں نے بندوق کی نوک پر قبضے میں لے لیا تھا جب وہ ایک عراقی کشتی کا معائنہ کرنے کے بعد اپنی چھوٹی کشتیوں کی جانب آ رہے تھے جن کے ذریعے انہیں واپس اپنے بحری جہاز ’ایچ ایم ایس کارنیوال‘ پر جانا تھا۔

برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا تھا کہ ایران کا برطانوی فوجیوں کو قبضے میں لینا غلط اور بلا جواز اقدام ہے۔

انہوں نے ایران کے خلیج فارس سے برطانوی فوجیوں کو گرفتار کرنے کے معاملے کو انتہائی سنگین قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایران جانتا ہے کہ برطانیہ کے نزدیک یہ معاملہ کس قدر اہم ہے۔

ٹونی بلیئرنے ایک بار پھر برطانیہ کے اس موقف کو دہرایا کہ ایران کے دعوے کے برعکس برطانوی فوجی ایرانی پانیوں میں موجود نہیں تھے۔

اس سے قبل ایران کی وزارتِ خارجہ کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ برطانوی سفارت کاروں کو یہ نہیں بتا سکتے کہ خلیج فارس سے قبضے میں لیے جانے والے برطانوی فوجیوں کو کہاں رکھا گیا ہے۔

امریکہ کو ’پیشکش‘
’حزب اللہ کی مدد بند کرنے کی پیشکش کی‘
ایرانی صدر محمد احمدی نژادصدر احمدی نژاد
سلامتی کونسل سے خطاب کی خواہش
بحری جہاز’امریکی مشقیں‘
خلیج فارس میں مجوزہ امریکی جنگی مشقیں اشتعال انگیز ہیں: ایران
ایرانی جوہری پلانٹایران نیوکلیئر
سکیورٹی کونسل کے لیے نیا مسودۂ قرارداد تیار۔
اسی بارے میں
برطانوی فوجی کا اقرار جرم
19 September, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد