BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 March, 2007, 22:45 GMT 03:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسئلہ سنگین اور ایرانی رویہ ناقابلِ معافی ہے‘
مغرور طاقتیں متکبرانہ اور خود غرضانہ رویے کی وجہ سے صورتِ حال کو مختلف بتا رہی ہیں: صدر احمدی نژاد
ایران اور برطانیہ کے درمیان برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں کی حراست کی وجہ سے شروع ہونے والی کشیدگی جاری ہے اور امریکی صدر جارج بش نے وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کی حمایت کرتے ہوئے ایرانی رویے کو ناقابلِ معافی قرار دیا ہے۔

ادھر ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے ’ایرانی بحری حدود کی خلاف ورزی اور معافی نہ مانگنے پر‘ برطانیہ پر تنقید کی ہے۔

ایرانی صدر نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ برطانیہ اس معاملے کو اقوامِ متحدہ اور یورپی اتحاد کے سامنے لے گیا ہے۔ اپنے ردِ عمل میں برطانیہ نے کہا ہے کہ اس طرح کے بیانات صورتِ حال کے ازالے میں مفید ثابت نہیں ہوں گے۔

امریکی صدر جارج بش نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ایران کے سرحدی محافظوں کے ہاتھوں پندرہ برطانوی فوجیوں کی حراست پر وزیرِ اعظم ٹونی بلیئر کے موقف کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے بھی یہ کہا ہے کہ حراست کے وقت برطانوی فوجی ایران کی بحری حدود میں نہیں تھے۔

صدر بش نے کہا کہ یہ مسئلہ سنگین ہے کیونکہ برطانوی فوجیوں کو عراقی بحری حدود سے حراست میں لیا گیا۔ ’یہ ناقابلِ معافی رویہ ہے اور میں بلیئر حکومت کی اس مسئلے کو پُر امن طور پر حل کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہوں۔ ایران کو یرغمال برطانوی فوجیوں کو فوراً واپس کرنا چاہیے۔‘

صدر بش کا کہنا ہے کہ وہ وزیرِ اعظم بلیئر کے موقف کی بھرپور حمایت کرتے ہیں

ادھر یرغمال صورتِ حال میں مذاکرات کرنے والے ٹیری ویٹ نے جو خود بھی یرغمال بنائے گئے تھے، پیشکش کی ہے کہ انسانی بنیادوں پر موجودہ کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی غرض سے تہران جانے پر تیار ہیں۔

ایرانی صدر نے اصرار کیا: ’برطانیہ کی فوج نے ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی اور ایران کے سرحدی محافظوں نے ہنر مندی اور دلیری کا مظاہرہ کیا‘۔

اسی دوران ماسکو میں ایران کے سفیر نے کہا ہے کہ ایران کے زیرِ حراست پندرہ برطانوی فوجیوں کے خلاف قانونی عمل شروع ہوگئی ہے۔

برطانیہ کی وزیرِ خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے ایرانی سفارتکار کے اس بیان پر کہا ہے کہ یہ صورتِ حال میں بہتری کے لیے مُمِد نہیں ہے۔

برطانوی وزیرِ خارجہ مارگریٹ بیکٹ کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ پُر امن طور پر جلد سے جلد حل ہونا چاہیے

ایرانی شہر ایندینمشک میں خطاب کرتے ہوئے صدر احمدی نژاد نے کہا کہ لندن نے اپنے کیے پر معافی نہیں مانگی۔ ’برطانیہ کے فوجیوں نے ایرانی پانیوں کی حدود توڑیں اور ہماری سمندری محافظوں نے بڑی مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا‘۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا: ’لیکن مغرور طاقتیں اپنے متکبرانہ اور خود غرضانہ رویے کی وجہ سے صورتِ حال کو مختلف بتا رہی ہیں۔‘

’ان (برطانوی) افراد کی گرفتاری کے بعد برطانوی حکومت نے اپنے عمل پر معذرت طلبی اور اظہارِ افسوس کی بجائے یہ دعویٰ کر دیا کہ گویا گڑبڑ ہم نے کی ہے اور انہوں نے اس مسئلے کو مختلف بین الاقوامی اداروں میں اچھالا۔ لیکن یہ مسئلے کے حل کی قانونی اور منطقی راہ نہیں ہے۔‘

ایرانی ٹیلیوژن پر زیرِ حراست پندرہ فوجیوں میں سے کچھ کو دکھایا گیا تھا

برطانیہ اس بات سے انکار کرتا ہے کہ اس کے بحری فوجی حراست کے وقت ایرانی سمندری حدود میں تھے۔ لندن کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ اس کے فوجیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔

اس سے قبل برطانوی وزیرِ خارجہ مارگریٹ بیکٹ نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی حکومت کو سفارتی سطح پر ایک نوٹ بھی بھیجا گیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ نوٹ میں درج نکات پر برطانیہ سے بات چیت پر غور کیا جا سکتا ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے یہ بھی کہا: ’میں سمجھتی ہوں کہ ہر کسی کو اس صورتِ حال پر افسوس ہے۔ہم اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ پر امن طریقے سے حل اور اور جلد از جلد حل ہو۔‘

دریں اثناء ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے ایک خبر جاری کی جس میں کہا گیا تھا کہ ماسکو میں ایرانی سفیر مسٹر انصاری نے روسی ٹیلیوژن سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ پندرہ فوجیوں کے خلاف قانونی کارروائی پہلے ہی شروع کی جا چکی ہے اور اس بات کا امکان ہے کہ ان پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

تاہم بعد میں خبر رساں ادارے نے مسٹر انصاری کے حوالے سے کہا کہ ٹی وی چینل نے ان کی گفتگو کا ترجمہ کرتے ہوئے غلطی کر دی تھی اور یہ کہ انہوں نے برطانوی فوجیوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے امکان کا ذکر نہیں کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد