کاش ہم ایرانی حدود میں نہ گئے ہوتے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے سرکاری ٹیلیویژن نےگرفتار شدہ خاتون ملاح فے ٹرنے کا انٹرویو اور دیگر چودہ فوجیوں اور ملاحوں کی ویڈیو فوٹیج نشر کی ہے۔ چھبیس سالہ ٹرنے نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ انہیں خلیج فارس سے پکڑا گیا اور انہوں نے’یقینی طور پر ایرانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی‘۔ فے ٹرنے کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں گرفتار کرنے والے افراد نے ان سے اچھا سلوک کیا اور پکڑنے جانے والے تمام لوگ خیریت سے ہیں۔ برطانوی دفترِ خارجہ نے اس انٹرویو اور فوٹیج کو ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیا ہے۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ٹی وی پر اس قسم کی تصاویر دکھایا جانا ناقابلِ قبول ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے لوگ عراقی حدود میں تھے اور انہیں وہاں موجود رہنے کا حق حاصل تھا‘۔ اس سے قبل ایران نے کہا تھا کہ وہ فے ٹرنے کو’جلد ہی‘ رہا کر دے گا۔ ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متقی کا کہنا تھا کہ خاتون ملاح کو بدھ یا جمعرات کو چھوڑ دیا جائے گا۔ ایرانی ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں یونیفارم میں ملبوس آٹھ برطانوی ملاحوں اور سات فوجیوں کو کھانا کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سر پر سکارف لیے فے ٹرنے کا انٹرویو بھی ٹیلیویژن پر دکھایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ’ مجھے تیئس مارچ کو گرفتار کیا گیا اور ہم نے ان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔‘ انہوں نے کہا ’ہمیں پکڑنے والے بہت مہمان نواز، دوست اور اچھے لوگ تھے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہمیں کیوں گرفتار کیا۔گرفتاری کے دوران نہ کسی قسم کی جارحیت کا مظاہر ہوا اور نہ کسی کو نقصان پہنچا‘۔ ویڈیو میں ایک خط بھی دکھایا گیا ہے جو کہ ٹرنے نے اپنے والدین کو لکھا ہے اور اس میں انہوں نے ایرانی بحری حدود میں داخلے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور لکھا ہے’ کاش ہم یہ نہ کرتے ۔ ایسا نہ ہوا ہوتا تو اس وقت میں گھر پر آپ کے ساتھ ہوتی‘۔ اس سے قبل برطانیہ نے ایران سے باہمی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جائے۔ | اسی بارے میں ’حالات رخ بدل سکتےہیں‘27 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی ’ہشاش بشاش‘ ہیں26 March, 2007 | آس پاس ’ایران کا اقدام بلا جواز ہے‘25 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجیوں نے’اعتراف‘ کرلیا24 March, 2007 | آس پاس 15 برطانوی فوجی ایرانی قبضے میں23 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||