BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 March, 2007, 10:58 GMT 15:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’رہائی میں تاخیر ہو سکتی ہے‘
برطانوی ملاح
ایران چاہتا ہے کہ برطانیہ تسلیم کرے کہ اس کے اہلکار اس کی سمندری حدود میں تھے
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے’غلط رویے‘ کی وجہ سے خاتون برطانوی ملاح کی رہائی میں تاخیر ہو سکتی ہے۔

ایران کے مرکزی جوہری مذاکرات کار اور ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کا کہنا ہے’ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ گرفتارشدگان میں سے خاتون کو رہا کر دیا جائےگا مگر اس اعلان کے جواب میں غلط رویہ اپنایا گیا‘۔

ایرانی ریڈیو پر بات کرتے ہوئے علی لاریجانی کا کہنا تھا برطانیہ نے اس معاملے کو غلط طریقے سے’ہینڈل‘ کیا ہے اور سفارتی تعلقات کی خرابی اور اقوامِ متحدہ میں اس معاملے کو لے جانے کی باتیں بلاوجہ کا شورشرابا ہیں۔ اس طرح سے یہ معاملہ حل ہونے والا نہیں ہے۔

اس سے قبل ایران نے برطانوی حکام کو پیشکش کی تھی کہ وہ برطانوی بحریہ کے ان پندرہ اہلکاروں سے ملاقات کر سکتے ہیں جنہیں اس نے خلیج فارس سے جمعہ کو پکڑا تھا۔

حکام کے مطابق اس مسئلے پر تعطل اس صورت میں ختم ہو سکتا ہے کہ برطانیہ یہ تسلیم کر لے کہ اس کی بحریہ کے ارکان ایران کے پانیوں میں داخل ہوئےتھے۔ برطانیہ نے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی اس مسئلے ایران سے بات کی ہے۔

اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹیلیویژن نےگرفتار شدہ خاتون ملاح فے ٹرنے کا انٹرویو اور دیگر چودہ فوجیوں اور ملاحوں کی ویڈیو فوٹیج نشر کی تھی۔ چھبیس سالہ ٹرنے نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ انہیں خلیج فارس سے پکڑا گیا اور انہوں نے’یقینی طور پر ایرانی حدود کی خلاف ورزی کی تھی‘۔

فے ٹرنے کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں گرفتار کرنے والے افراد نے ان سے اچھا سلوک کیا اور پکڑنے جانے والے تمام لوگ خیریت سے ہیں۔

برطانوی دفترِ خارجہ نے اس انٹرویو اور فوٹیج کو ’مکمل طور پر ناقابلِ قبول‘ قرار دیا۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ٹی وی پر اس قسم کی تصاویر دکھایا جانا ناقابلِ قبول ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے لوگ عراقی حدود میں تھے اور انہیں وہاں موجود رہنے کا حق حاصل تھا‘۔

ایرانی ٹی وی پر دکھائی جانے والی فوٹیج میں یونیفارم میں ملبوس آٹھ برطانوی ملاحوں اور سات فوجیوں کو کھانا کھاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ سر پر سکارف لیے فے ٹرنے کا انٹرویو بھی ٹیلیویژن پر دکھایا گیا جس میں انہوں نے کہا کہ’ مجھے تئیس مارچ کو گرفتار کیا گیا اور ہم نے ان کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔‘

انہوں نے کہا ’ہمیں پکڑنے والے بہت مہمان نواز، دوست اور اچھے لوگ تھے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ہمیں کیوں گرفتار کیا۔گرفتاری کے دوران نہ کسی قسم کی جارحیت کا مظاہر ہوا اور نہ کسی کو نقصان پہنچا‘۔

ویڈیو میں ایک خط بھی دکھایا گیا ہے جو کہ ٹرنے نے اپنے والدین کو لکھا ہے اور اس میں انہوں نے ایرانی بحری حدود میں داخلے پر افسوس ظاہر کیا ہے اور لکھا ہے’ کاش ہم یہ نہ کرتے ۔ ایسا نہ ہوا ہوتا تو اس وقت میں گھر پر آپ کے ساتھ ہوتی‘۔

اس سے قبل برطانیہ نے ایران سے باہمی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا جبکہ برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ایران پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد