’برطانیہ نے معافی مانگی ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے ایک ٹی وی چینل نے خارجہ امور کے رہنمائے اعلیٰ علی اکبر ولائتی کے ایک مشیر کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ برطانوی حکومت نے ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر ایران سے معافی مانگی ہے۔ ایرانی ٹی وی چینل سے یہ دعویٰ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے اس بیان کے پس منظر میں کیا گیا ہے جس میں انہوں نے برطانوی بحریہ کے پندرہ ارکان کی رہائی پر کہا تھا کہ ایران سے کسی قسم کی سودی بازی نہیں کی گئی۔ ایرانی ٹی وی نے مشیر کے حوالے سے کہا کہ ایرانی حکومت کو منگل کے روز برطانوی حکومت کی طرف سے ایک خط موصول ہوا تھا جس میں انہوں نے برطانوی بحریہ کی طرف سے ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی پر معافی مانگی تھی۔
تاہم برطانوی سفارت کارروں کا اصرار ہے کہ برطانوی حکومت کی طرف سے اس قسم کا کوئی خط نہیں لکھا گیا۔ ایرانی صدر احمدی نژاد نے برطانوی فوجیوں کی رہائی کا اعلان کرتے وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ نے آئندہ ایسی خلاف ورزیاں نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم برطانوی حکام اس بات کی بھی تردید کرتے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ ایرانی حکام اندرونی طور پر دباؤ کا شکار ہوں کہ برطانوی بحریہ کے اہلکاروں کو رہا کیوں کیا گیا۔ برطانوی فوجیوں کے پکڑے جانے اور رہائی کے بعد برطانیہ اور ایران دونوں ہی ملکوں کی طرف سے متضاد بیانات اور دعوے کیئے جاتے رہے ہیں۔ ابھی تک ایران کی طرف سے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے اس بیان پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران عراق میں دہشت گردی کو ہوا دے رہا ہے اور بین الاقوامی برادری ایران کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے حصول کے لیئے کی جانے والی کوششوں کو برداشت نہیں کرے گی۔ | اسی بارے میں ’رہائی میں تاخیر ہو سکتی ہے‘29 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجیوں کے بدلے ایرانی: ’نہیں‘30 March, 2007 | آس پاس ’مسئلہ سنگین اور ایرانی رویہ ناقابلِ معافی ہے‘31 March, 2007 | آس پاس مقدمہ نہیں چلانا چاہتے: لاریجانی03 April, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی رہا کر دیے ہیں: ایران04 April, 2007 | آس پاس کوئی ڈیل نہیں ہوئی: بلیئر05 April, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی وطن پہنچ گئے05 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||