برطانوی فوجی رہا کر دیے ہیں: ایران | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے کہا ہے کہ حراست میں لیے گئے برطانوی نیوی کے پندرہ اہلکاروں کو آزاد کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ اعلان ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے کیا، جس کے دوران ایرانی صدر نے ان کمانڈوز کو میڈلز بھی دیئے جنہوں نے کارروائی کر کے برطانوی فوجیوں کو خلیج فارس سے حراست میں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا ’برطانوی اہلکاروں کو فوراً رہا کر کے ایک ہوائی اڈے کی طرف لیجایا جا رہا ہے۔‘ تاہم انہوں نے اس الزام کو دہرایا کہ برطانوی اہلکار غیر قانونی طور پر ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا ’ ان کی رہائی برطانیہ کے لیے ایک تحفہ ہے۔‘
ایرانی صدر نے کہا کہ بدقسمتی سے برطانوی حکومت میں اتنا حوصلہ نہیں کہ وہ اپنی عوام کو سچ بتائے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے۔ احمدی نژاد نے عراق پر امریکی حملے اور لبنان میں اسرائیلی جنگ کی مذمت بھی کی۔ ایرانی سال نو کے آغاز پر کی گئی اس اخباری کانفرنس کے ذریعے صدر احمدی نژاد نے ان ممالک کی مذمت کی جو ان کے بقول ’دنیا میں دکھ اور تباہی کے ذمہ دار ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی نہیں ہے جو مظلوموں کے لیے اٹھ کھڑا ہو۔ ان کا کہنا تھا ’ عراق پر حملہ اس بہانے کیا گیا تھا کہ وہاں وسیع پیمانے پھیلانے والے ہتھیار ہیں لیکن قابض فوجیں اب بھی عراق میں موجود ہیں اور لوگ مر رہے ہیں۔‘ | اسی بارے میں مقدمہ نہیں چلانا چاہتے: لاریجانی03 April, 2007 | آس پاس ’فوجیوں کی رہائی، اگلے دو دن اہم‘03 April, 2007 | آس پاس ’برطانوی فوجیوں کا نیا اعتراف‘ 01 April, 2007 | آس پاس ’مسئلہ سنگین اور ایرانی رویہ ناقابلِ معافی ہے‘31 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی ’ہشاش بشاش‘ ہیں26 March, 2007 | آس پاس ’ایران کا اقدام بلا جواز ہے‘25 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||