’فوجیوں کی رہائی، اگلے دو دن اہم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے وزیراعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ ایران کے قبضے میں موجود رائل نیوی کے پندرہ فوجیوں کی رہائی کے حوالے سے ہونے والے اگلے دو دن کے مذاکرات انتہائی اہم ہوں گے۔ برطانوی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ اس ضمن میں کسی محاذ آرائی کے قائل نہیں اور سب سے اہم بات قیدیوں کو صحیح سلامت واپس لانا ہے۔ بلیئر کا کہنا تھا کہ انہوں نے مسٹر لاریجانی کی تقریر سنی ہے جو بظاہر حوصلہ افزا دکھائی دیتی ہے تاہم اہم چیز یہی ہے کہ کس طرح سے قید میں موجود افراد کو واپس لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت کے آغاز پر برطانیہ کے سامنے دو پہلو تھے، ایک یہ ایران یہ بات سمجھ لے کہ اس مسئلہ پر’دباؤ موجود ہے‘ اور دوسرا یہ کہ سفارت کاری کا ’دروازہ کھلا ہے‘۔
اس سے قبل تہران کے حکام نے برطانوی فوجیوں کی رہائی کے معاملے کو مذاکرات سے حل کیے جانے کا عندیہ دیا تھا۔ ایران کی سپریم سکیورٹی کونسل کے ایک رکن علی لاریجانی نے کہا تھا کہ ایران کی ترجیح یہ ہے کہ برطانوی فوجیوں پر مقدمہ نہ چلایا جائے بلکہ سفارتی ذرائع سے مسئلے کو حل کیا جائے۔ انہوں نے منگل کو یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ اس مسئلہ پر برطانوی حکام سے بات چیت کا نیا دور منگل کو شروع ہو گیا ہے۔ علی لاریجانی، جو اقوامِ متحدہ میں ایران کے جوہری مذاکرات اعلیٰ بھی ہیں، نے ایرانی ریڈیو کو بتایا تھا کہ برطانوی حکومت نے ایران کے وزیر خارجہ کے ساتھ سفارتی سطح پر بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔ تاہم ابھی وہ ابتدائی مرحلے پر ہیں۔ اگر بات چیت کا سلسلہ اسی طرح سے جاری رہا تو اس مسئلے کی کوئی صورت نکل سکتی ہے اور ممکن ہے کہ وہ حل ہو جائے۔ ایران کا موقف تھا کہ برطانوی فوجیوں نے 23 مارچ کو اس کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کی تھی جبکہ برطانیہ کا اصرار تھا کہ اس کے فوجی عراق کی سمندری حدود میں تھے۔
برطانوی دفترِ خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ علی لاریجانی کے ان خیالات پر غور کر رہا ہے جو انہوں نے چینل فور نیوز میں ظاہر کیے ہیں۔ البتہ برطانیہ ان کی اس بات سے متفق ہے کہ یہ مسئلہ سفارتی انداز میں حل کیا جائے۔ دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران اور برطانیہ کے موقف میں کچھ کچھ اختلاف ہے لیکن ہم ڈاکٹر لاریجانی کے اس خیال سے متفق ہیں کہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے دوطرفہ مذاکرات ہوں تاکہ مسئلے کا سفارتی حل نکالا جا سکے۔‘ بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ منگل کو اس حوالے سے مذاکرات جاری رکھے گا۔ برطانوی دفترِ خارجہ کے اس بیان سے قبل ایک مترجم کی وساطت سے چینل فور کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر لاریجانی نے اصرار کیا کہ ایران کو اس مسئلے پر اپنے موقف کے درست ہونے کا یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور اس کے حلیف ممالک کی جانب سے ’طاقت کی زبان‘ کا استعمال دشواریاں پیدا کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران چاہے گا کہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آئندہ اس کی بحری حدود کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔ | اسی بارے میں مقدمہ نہیں چلانا چاہتے: لاریجانی03 April, 2007 | آس پاس ’رہائی میں تاخیر ہو سکتی ہے‘29 March, 2007 | آس پاس ایران:’عالمی دباؤ ڈالنے کا وقت‘28 March, 2007 | آس پاس کاش ہم ایرانی حدود میں نہ گئے ہوتے‘28 March, 2007 | آس پاس ’حالات رخ بدل سکتےہیں‘27 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی ’ہشاش بشاش‘ ہیں26 March, 2007 | آس پاس ’ایران کا اقدام بلا جواز ہے‘25 March, 2007 | آس پاس 15 برطانوی فوجی ایرانی قبضے میں23 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||