BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 April, 2007, 02:17 GMT 07:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مقدمہ نہیں چلانا چاہتے: لاریجانی
 علی لاریجانی
علی لاریجانی نے کہا کہ ایران اس بات کی ضمانت چاہے گا کہ آئندہ اس کی بحری حدود کی خلاف ورزی نہ ہو
برطانیہ نے ایک مرتبہ پھر اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ ایران میں زیرِ حراست اپنی بحریہ کے پندرہ فوجیوں کا معاملہ ایران کی طرح سفارتی انداز میں حل کرنے کا خواہاں ہے۔

ادھرایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے علی لاریجانی نے کہا ہے کہ ایران کی ترجیح یہ ہے کہ برطانوی فوجیوں پر مقدمہ نہ چلایا جائے بلکہ سفارتی ذرائع سے مسئلے کو حل کیا جائے۔

برطانیہ میں دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ علی لاریجانی کے ان خیالات پر غور کر رہا ہے جو انہوں نے چینل فور نیوز میں ظاہر کیے ہیں۔البتہ برطانیہ ان کی اس بات سے متفق ہے کہ یہ مسئلہ سفارتی انداز میں حل کیا جائے۔

دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ایران اور برطانیہ کے موقف میں کچھ کچھ اختلاف ہے لیکن ہم ڈاکٹر لاریجانی کے اس خیال سے متفق ہیں کہ مسئلے کو حل کرنے کے لیے دوطرفہ مذاکرات ہوں تاکہ مسئلے کا سفارتی حل نکالا جا سکے۔‘

پیر کو بھی ایران کے ٹیلی وژن پر برطانوی بحریہ کے فوجیوں کو دکھایا گیا

بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ منگل کو اس حوالے سے مذاکرات جاری رکھے گا۔

برطانوی دفترِ خارجہ کے اس بیان سے قبل ایک شارح کی وساطت سے چینل فور کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر لاریجانی نے اصرار کیا کہ ایران کو اس مسئلے پر اپنے موقف کے درست ہونے کا یقین ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ اور اس کے حلیف ممالک کی جانب سے ’طاقت کیی زبان‘ کا استعمال دشواریاں پیدا کر رہا ہے۔

’یقیناً ہماری ترجیح برطانوی فوجیوں پر مقدمہ چلانا نہیں ہوگی۔ ہماری ترجیح یہ ہے کہ مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کیا جائے اور ہم اسے مزید پیچیدہ بنانا نہیں چاہتے۔ میرے خیال میں ایک وفد کو اس معاملے پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے اور یہ وضاحت کرنی چاہیے کہ آیا برطانوی فوجی ایرانی بحری حدود میں تھے یا نہیں۔‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران چاہے گا کہ اس بات کی ضمانت دی جائے کہ آئندہ اس کی بحری حدود کی خلاف ورزی نہیں کی جائے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد