BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 01 April, 2007, 22:50 GMT 03:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’برطانوی فوجیوں کا نیا اعتراف‘
گزشتہ روز صدر جارج بش نے ایرانی رویہ کو ’ناقابلِ معافی‘ قرار دیا تھا
ایران میں سرکاری ٹیلیوژن پر زیرِ حراست برطانوی فوجیوں کی نئی فلم دکھائی کی گئی ہے جس میں دو فوجیوں کو پھر اعتراف کرتے دکھایا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر ایرانی آبی حدود میں داخل ہوئے تھے۔

دو برطانوی فوجیوں کو خلیج کے ایک بڑے نقشے کی جانب اشارہ کرتے دکھایا گیا ہے اور ٹی وی پر دکھائی جانے والی فلم کے مطابق ’انہوں نے نقشے پر اس مقام کی نشاندہی کی ہے جہاں سے وہ ایرانی آبی حدود میں داخل ہوئے۔‘

برطانوی دفترِ خارجہ نے اس نئے نشریہ کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

ادھر تہران میں ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی نے ایک بیان میں برطانیہ پر نکتہ چینی کی ہے کہ وہ اس معاملے میں بین الاقوامی برادری کو مداخلت کی دعوت دے رہا ہے۔ محمد علی حسینی نے کہا کہ یہ تنازع تہران اور لندن کے درمیان براہ راست مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

ایران نے دس روز قبل برطانوی بحریہ کے پندرہ فوجیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔ ایران کا الزام ہے کہ یہ فوجی ایران کی سمندری حدود کی خلاف ورزی کر رہے تھے جبکہ برطانیہ کا کہنا ہے اس کے فوجی ایران کی نہیں بلکہ عراق کی سمندری حدود میں تھے ۔

اتوار کو تہران یونیورسٹی کے طلباء نے برطانوی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا

ادھر ایران کے دارلحکومت تہران میں دو سو سے زائد طالب علموں نے برطانوی سفارت خانے کے باہر مظاہرہ کیا اور برطانوی فوجیوں پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہرین نے برطانیہ مردہ باد کے نعرے لگائے سفارتخانے پر پتھراؤ کیا اور پٹخاخے پھینکے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان محمد علی حسینی کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا شروع ہی سے یہ موقف ہے کہ یہ تنازعہ باہمی تعلقات کے فریم ورک میں منطقی اور اصولوں پر مبنی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔

’ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ اس مسئلے کو ذراع ابلاغ میں نہیں اچھالنا چاہیے لیکن بدقسمتی سے برطانیہ نے جو راہ اختیار کی اس نے صورتحال کو مزید خراب کیا ہے۔ برطانیہ نے بین الاقوامی اداروں کو بھی استعمال کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں۔‘

ادھر برطانیہ کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں ایران کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے۔ برطانیہ کے وزیر دفاع نے جو افغانستان کے دورے پر ہیں، کہا ہے کہ برطانیہ چاہتا ہے کہ یہ تنازع سفارتی طریقے سے جلد از جلد حل ہو جا ئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد