برطانوی فوجی وطن پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران میں تقریباً دو ہفتے تک زیرحراست رہنے والے برطانوی بحریہ کے پندرہ اہلکار برطانیہ واپس پہنچ گئے ہیں۔ رائل نیوی کے ان اہلکاروں کا طیارہ جمعرات کو برطانوی وقت کے مطابق دوپہر بارہ بجے لندن کے ہیتھرو ائر پورٹ پر اترا۔ خلیج فارس سے پکڑ ے جانے والے ان اہلکاروں کو آزاد کرنے کا اعلان بدھ کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد نے یہ کہہ کر کیا تھا کہ یہ ایران کی طرف سے برطانوی عوام کے لیے ایک ’تحفہ‘ ہے۔ لندن سے اہلکاروں کو لے کر ایک ہیلی کاپٹر ڈیون میں واقع رائل میرین کے اڈے کے لیے روانہ ہوا ہے جہاں یہ افراد اپنے اپنے اہل خانہ سے ملیں گے۔ وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ وہ ’خوش‘ ہیں کہ عملہ ’بحفاظت‘ واپس آ گیا ہے۔ ہیتھرو ایئر پورٹ پر طیارے کے اترتے ہی وزیراعظم اپنی رہائش گاہ سے باہر آئے اور ذرائع ابلاغ کو بیان دیتے ہوئے کہا کہ اہلکاروں کو واپس لانے کے لیے ایران کے ساتھ کوئی ڈیل یا معاملہ نہیں کیا گیا۔
اس موقع پر ٹونی بلیئر نے اہلکاروں کی واپسی پر منائی جانے والی خوشی کا تقابل عراق میں ’دہشگردی کے ایک واقعہ‘ میں چار برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کی ’ افسوسناک اور بھدی حقیقت‘ سے بھی کیا۔ وزیراعظم نے اس الزام کو دہرایا کہ ’ایرانی حکومت میں کچھ عناصر‘ ایسے ہیں کہ جو عراق میں دہشتگردی کی حمایت کرتے ہیں، اس کی مالی مدد کرتے ہیں، اور دشتگردوں کو اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔‘ تیرہ دن تک ایرانی حکام کی تحویل میں رہنے کے بعد بحریہ کے اہلکار جمعرات صبح سویرے سرکاری گاڑیوں میں تہران کے ہوائی اڈے پر پہنچے تھے، جہاں سے وہ آٹھ بجے برٹش ائر ویز کی پرواز سے لندن روانہ ہوئے تھے۔ لندن سے ڈیون پہنچنے پر ان اہلکاروں کو بریفنگ دی جائے گی اور ان کا تفصیلی طبی معائنہ بھی کیا جائے گا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کہ یہ اہلکار اپنے اہل خانہ سے ملیں فوج کے اعلی حکام یہ جاننا چاہئیں گے کہ ان اہلکاروں پر محبوس رہنے کی وجہ سے کیا جسمانی اور نفسیاتی اثرات ہوئے ہیں۔ گزشتہ دنوں کے دوران ایرانی ٹیلی ویژن کئی بار ان اہلکاروں کی تصاویر اور ان کے بیانات پر مبنی فلمیں دکھا چکا ہے جن میں عملے میں شامل واحد خاتون اہلکار فے ٹرنی کا بیان بھی شامل تھا۔ عملے کی تہران روانگی سے قبل خاتون اہلکار کو ٹی وی پر یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا :’ ہم اپنے کیے پر معافی چاہتے ہیں تاہم اس جذبے کے لیے شکریہ جس کے تحت آپ ہمیں آزاد کر رہے ہیں۔‘ مبصرین اس بات پر تقسیم ہیں کہ اہلکاروں کی رہائی برطانیہ کی سفارتی فتح کی عکاس ہے یا یہ کہ اس سے ایرانی صدر نے تعلقات عامہ کے میدان میں بڑا معرکہ مارا ہے۔ ایرانی کی انقلابی فوج کے اہلکاروں نے رائل نیوی کے پندرہ اہلکاروں کو تئیس مارچ کو اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب وہ سمندر میں ایک بحری جہاز کو چھوڑ کر چھوٹی کشتیوں پر سوار ہوئے تھے۔ ایران نے الزام لگایا تھا کہ عملہ اس کی سمندری حدود کے اندر تھا جبکہ گزشتتہ دو ہفتوں کے دوران برطانیہ اصرار کرتا رہا ہے کہ یہ لوگ عراقی پانیوں میں تھے۔ | اسی بارے میں مقدمہ نہیں چلانا چاہتے: لاریجانی03 April, 2007 | آس پاس ’فوجیوں کی رہائی، اگلے دو دن اہم‘03 April, 2007 | آس پاس ’برطانوی فوجیوں کا نیا اعتراف‘ 01 April, 2007 | آس پاس ’مسئلہ سنگین اور ایرانی رویہ ناقابلِ معافی ہے‘31 March, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی ’ہشاش بشاش‘ ہیں26 March, 2007 | آس پاس ’ایران کا اقدام بلا جواز ہے‘25 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||