BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 06:55 GMT 11:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراق پالیسی ناقص ہے‘
عراق میں اب تک تین ہزار سے زیادہ امریکی فوجی مارے گئے ہیں
ایک برطانوی ’ تھنک ٹینک‘ نے عراق کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی عراق پالیسی نےخطے میں دہشت گردی کے ایک نئے سلسلے کوجنم دیا ہے۔

اوکسفورڈ ریسرچ گروپ کے مطابق امریکہ اور برطانیہ نے فوجی طاقت کے ذریعے مسئلہ کو دبانے کی کوشش کی ہے جبکہ ان مسائل کے دیرپا حل کے لیے ان کی جڑوں کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔

اس گروپ نے خبردار کیا ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے ایران، شام اور شمالی کوریا کو شہہ ملی ہےجبکہ القاعدہ افغانستان میں ایک مرتبہ پھر سراٹھا رہی ہے۔

برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں کی خارجہ پالیسی بڑی کارگر ثابت ہوئی ہے اور عراق میں لیے جانے والے اقدامات بلکل حق بجانب تھے۔

برطانیہ کے ایک اور خیراتی ادارے اوکسفیم نے اپنی علیحدہ رپورٹ میں کہاہے کہ عراق پر حملے کی وجہ سے عالمی سطح پر برطانیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

تاہم اوکسفیم نے کہا ہے کہ مستقبل میں برطانوی حکومت کو کسی بھی انسانی بحران سے نبٹنے کے لیے اپنی فوجیں بھیجنے سے کترانا نہیں چاہیے۔

گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں اوکسفیم نے چار ایسے عناصر کا تعین کیا تھا جن کی وجہ اس کے بقول دنیا عدم استحکام کا شکار ہے۔

عالمی سطح پر رونما ہونے والی موسمیاتی یا ماحولیاتی تبدیلیاں، قدرتی وسائل کے حصول کے لیے بڑھتی ہوئی کشمکش، دنیا میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریاں اور فوجی طاقت اور عسکری ٹیکنالوجی کا پھلاؤ وہ چار عناصر تھے جن کا اوکسفام کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد