’عراق پالیسی ناقص ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک برطانوی ’ تھنک ٹینک‘ نے عراق کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی عراق پالیسی نےخطے میں دہشت گردی کے ایک نئے سلسلے کوجنم دیا ہے۔ اوکسفورڈ ریسرچ گروپ کے مطابق امریکہ اور برطانیہ نے فوجی طاقت کے ذریعے مسئلہ کو دبانے کی کوشش کی ہے جبکہ ان مسائل کے دیرپا حل کے لیے ان کی جڑوں کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس گروپ نے خبردار کیا ہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے ایران، شام اور شمالی کوریا کو شہہ ملی ہےجبکہ القاعدہ افغانستان میں ایک مرتبہ پھر سراٹھا رہی ہے۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں کی خارجہ پالیسی بڑی کارگر ثابت ہوئی ہے اور عراق میں لیے جانے والے اقدامات بلکل حق بجانب تھے۔ برطانیہ کے ایک اور خیراتی ادارے اوکسفیم نے اپنی علیحدہ رپورٹ میں کہاہے کہ عراق پر حملے کی وجہ سے عالمی سطح پر برطانیہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ تاہم اوکسفیم نے کہا ہے کہ مستقبل میں برطانوی حکومت کو کسی بھی انسانی بحران سے نبٹنے کے لیے اپنی فوجیں بھیجنے سے کترانا نہیں چاہیے۔ گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں اوکسفیم نے چار ایسے عناصر کا تعین کیا تھا جن کی وجہ اس کے بقول دنیا عدم استحکام کا شکار ہے۔ عالمی سطح پر رونما ہونے والی موسمیاتی یا ماحولیاتی تبدیلیاں، قدرتی وسائل کے حصول کے لیے بڑھتی ہوئی کشمکش، دنیا میں بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواریاں اور فوجی طاقت اور عسکری ٹیکنالوجی کا پھلاؤ وہ چار عناصر تھے جن کا اوکسفام کی رپورٹ میں ذکر کیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں تین امریکیوں سمیت سترہ ہلاک10 April, 2007 | آس پاس سی آئی اے نے تشدد کیا: سفارتکار07 April, 2007 | آس پاس عراقی شہر دیوانیہ میں لڑائی جاری08 April, 2007 | آس پاس ’افغان صحافی کو قتل کردیا گیا‘08 April, 2007 | آس پاس ایران: یورینیم کی صنعتی پیداوار09 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||