ایران: یورینیم کی صنعتی پیداوار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے اعلان کیا ہے کہ اب ان کا ملک صنعتی پیمانے پر یورینیم پیدا کر سکتا ہے۔ ایرانی صدر نے ایران کی یورینیم پیدا کرنے کی نئی صلاحیت کی کوئی تفصیل نہیں بتائی تاہم کچھ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی ایران میں نتانز کے مقام پر واقع پلانٹ پر تین ہزار ایسے سینٹری فیوج کام کر رہے ہیں جو یورینیم گیس کو افزودہ کر سکتے ہیں۔ محمود احمدی نژاد نے یہ اعلان ایران کے یوم جوہری توانائی کے خوشی کے موقع پر کیا۔ ایران کا دعوی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام ہر لحاظ سے پرامن مقاصد کے لیئے ہے لیکن مغربی ممالک کو خطرہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے۔ یورینیم کی افزودگی روکنے سے انکار کی بنیاد پر اب تک اقوام متحدہ دو مرتبہ ایران کے خلاف پابندیوں کی قراردادیں منظور کر چکی ہے۔ ایران صدر کے اعلان پر ایک امریکی ترجمان نے کہا کہ امریکہ اس اعلان پر ’بہت پریشان‘ ہے۔ قومی سلامتی کی کونسل کے لیےوائٹ ہاؤس کے ترجمان گورڈن جوہنڈرے کا کہنا تھا: ’ ایران بجائے یورینیم کی افزودگی روکنے کے، اپنے جوہری پروگرام کو مزید پھیلا کر مسلسل بین الاقوامی برادری کے سامنے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے اور خود کو تنہا کر رہا ہے۔‘
ادھر نتانز میں تقریر کرتے ہوئے صدر محمود احمدی نژاد کا کہنا تھا: ’ میں نہایت فخر کے ساتھ یہ اعلان کرتا ہوں کہ آج سے ہمارا پیارا وطن جوہری کلب میں شامل ہو گیا ہے اور ہم صنعتی پیمانے پر یورینیم پیدا کر سکتے ہیں۔‘ واضح رہے کہ ایران نے اس سال فروری میں اعلان کیا تھا کہ اس نے نتانز میں 164سیٹری فیوج کے دو کیسکیڈ لگا لیے ہیں اور یہ کہ وہ مارچ کے آخر تک تین ہزار سینٹری فیوج لگانے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ نتانز میں ہونے والی خصوی تقاریب میں ذرائع ابلاغ اور سفارتکاروں کو مدعو کیا گیا تھا لیکن یورپی یونین نے ایران کی طرف سے اقوام متحدہ کے یورینیم کی افزودگی روکنے کے مطالبے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے بائیکاٹ کیا۔ | اسی بارے میں ’ایرانی سفارکار پر تشدد نہیں کیا‘08 April, 2007 | آس پاس ایران: ’پابندیاں غیر منصفانہ ہیں‘25 March, 2007 | آس پاس ایرانی صدر کو خطاب کی اجازت17 March, 2007 | آس پاس ’ایران حملےکےنتائج الٹ ہو سکتے ہیں‘05 March, 2007 | آس پاس ایران:’ہرممکن حد تک دفاع کریں گے‘23 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||