ایران: ’پابندیاں غیر منصفانہ ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایران کی حکومت نے سلامتی کونسل کی جانب سے اس کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں جبراً بند نہیں کروائی جا سکتیں۔ ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متقی کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیوں سے متعلق قرار داد خلافِ قانون اور غیر منصفانہ ہے، اور ایران کی جوہری افژودگی کی معطلی مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا: ’ایران لڑائی نہیں چاہتا اور اپنے بنیادی حقوق سے زیادہ کچھ بھی نہیں چاہتا‘۔ وزیر خارجہ متقی نے مزید کہا: ’میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ دباؤ اور دھمکیاں ایران کی پالیسی نہیں بدل سکتی ہیں‘۔ اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر ایمیر جونز پیری کے مطابق سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد 1747 کی متفقہ حمایت ایران کے ایٹمی پروگرام پر بین الاقوامی برادری کے خدشات کی ترجمان ہے۔ ایرانی ہتھیاروں کی برآمدگی پر پابندی بھی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد کا حصہ ہے۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی ہتھیاروں کی برآمدگی پر پابندی اس اعتبار سے اہم ہے کیونکہ وہ مزاحمت کار تنظیموں حزب اللہ اور حماس کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جویئر سولانا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے راستے ابھی بھی کھلے ہیں۔ اس سے قبل سلامتی کونسل کے اراکین نے متفقہ طور پر ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ پابندیاں ایران کے اپنے ایٹمی پروگرام معطل نہ کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔
سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانے والی یہ پابندیاں دسمبر 2006 میں ایران پرعائد کی جانے والی پابندیوں سے وسیع تر ہیں۔ نئی پابندیوں کے تحت ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کے لیے کام کرنے والے افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اور ایران کو اسلحے کی فروخت پر پابندی ہوگی۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا ٹریویلین کے مطابق سلامتی کونسل کے اراکین کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کا متفقہ فیصلہ ایران کے لیے اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام ناقابل قبول ہے۔ ایران پر پابندیوں کی نئی قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین برطانیہ، امریکہ، چین، فرانس اور روس نے جرمنی کے ساتھ ملکر تیار کیا ہے۔ ایران کے صدر احمدی نژاد سنیچر کو سلامتی کونسل کے سامنے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے حاضر ہونا چاہتے تھے لیکن انہوں نے آخری وقت اپنا یہ فیصلہ ترک کردیا۔ ان کی جگہ سلامتی کونسل میں ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی موجود تھے۔ |
اسی بارے میں ایران پر مزید پابندیاں عائد24 March, 2007 | آس پاس ایران:مزید پابندیوں کی قرار داد تیار16 March, 2007 | آس پاس ایران کے خلاف پابندیوں پر اختلاف11 March, 2007 | آس پاس ’ایران حملےکےنتائج الٹ ہو سکتے ہیں‘05 March, 2007 | آس پاس ایران پر پابندیاں، اہم پیش رفت03 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||