BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 March, 2007, 07:26 GMT 12:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایران: ’پابندیاں غیر منصفانہ ہیں‘
سلامتی کونسل
سلامتی کونسل کے اراکین نے متفقہ طور پر ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا تھا
ایران کی حکومت نے سلامتی کونسل کی جانب سے اس کے خلاف پابندیاں سخت کرنے کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی جوہری سرگرمیاں جبراً بند نہیں کروائی جا سکتیں۔

ایران کے وزیرِ خارجہ منوچہر متقی کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی جانب سے پابندیوں سے متعلق قرار داد خلافِ قانون اور غیر منصفانہ ہے، اور ایران کی جوہری افژودگی کی معطلی مسئلے کا حل نہیں۔

انہوں نے سلامتی کونسل کو بتایا: ’ایران لڑائی نہیں چاہتا اور اپنے بنیادی حقوق سے زیادہ کچھ بھی نہیں چاہتا‘۔ وزیر خارجہ متقی نے مزید کہا: ’میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ دباؤ اور دھمکیاں ایران کی پالیسی نہیں بدل سکتی ہیں‘۔

اقوام متحدہ میں برطانوی سفیر ایمیر جونز پیری کے مطابق سلامتی کونسل میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں انتہائی تشویش پائی جاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد 1747 کی متفقہ حمایت ایران کے ایٹمی پروگرام پر بین الاقوامی برادری کے خدشات کی ترجمان ہے۔

ایرانی ہتھیاروں کی برآمدگی پر پابندی بھی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد کا حصہ ہے۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی ہتھیاروں کی برآمدگی پر پابندی اس اعتبار سے اہم ہے کیونکہ وہ مزاحمت کار تنظیموں حزب اللہ اور حماس کو بڑے پیمانے پر ہتھیار فراہم کرتا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جویئر سولانا نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے راستے ابھی بھی کھلے ہیں۔

اس سے قبل سلامتی کونسل کے اراکین نے متفقہ طور پر ایران کے خلاف نئی پابندیوں کے حق میں ووٹ دیا تھا۔ یہ پابندیاں ایران کے اپنے ایٹمی پروگرام معطل نہ کرنے کی وجہ سے لگائی گئی ہیں۔

منوچہر متقی کے مطابق ایران اپنے بنیادی حقوق سے زیادہ کچھ بھی نہیں چاہتا

سلامتی کونسل کی جانب سے عائد کی جانے والی یہ پابندیاں دسمبر 2006 میں ایران پرعائد کی جانے والی پابندیوں سے وسیع تر ہیں۔ نئی پابندیوں کے تحت ایران کے ایٹمی اور میزائل پروگرام کے لیے کام کرنے والے افراد اور کمپنیوں کے اثاثے منجمد کردیے جائیں گے اور ایران کو اسلحے کی فروخت پر پابندی ہوگی۔

اقوام متحدہ میں بی بی سی کی نامہ نگار لورا ٹریویلین کے مطابق سلامتی کونسل کے اراکین کی جانب سے پابندیاں عائد کرنے کا متفقہ فیصلہ ایران کے لیے اس بات کا اشارہ ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام ناقابل قبول ہے۔

ایران پر پابندیوں کی نئی قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین برطانیہ، امریکہ، چین، فرانس اور روس نے جرمنی کے ساتھ ملکر تیار کیا ہے۔

ایران کے صدر احمدی نژاد سنیچر کو سلامتی کونسل کے سامنے اپنے موقف کی وضاحت کے لیے حاضر ہونا چاہتے تھے لیکن انہوں نے آخری وقت اپنا یہ فیصلہ ترک کردیا۔ ان کی جگہ سلامتی کونسل میں ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی موجود تھے۔

ایرانی خاتوناحمدی نژاد
دنیا میں انصاف ایران میں پابندی؟
جیفری رچلسن ناکامی کیوں ہوئی؟
شمالی کوریا پر امریکی جوہری جاسوسی ناکام
ثبوت نہیں ملا
ایران میں جوہری ہتھیاروں کی تیاری
ایرانی جوہری پلانٹایران نیوکلیئر
سکیورٹی کونسل کے لیے نیا مسودۂ قرارداد تیار۔
امریکہ کو ’پیشکش‘
’حزب اللہ کی مدد بند کرنے کی پیشکش کی‘
آیت اللہ العلظمی حسین علی ’ایٹمی پالیسی‘
آیت اللہ منتظری کی احمدی نژاد پر تنقید
ایرانی صدر محمد احمدی نژادصدر احمدی نژاد
سلامتی کونسل سے خطاب کی خواہش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد