ایرانی صدر کو خطاب کی اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں کی قرارداد پر ووٹنگ کے موقع پر ایرانی صدر کو خطاب کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد نے سکیورٹی کونسل میں اس قرارداد پر ووٹنگ کے لیے منعقد ہونے والے اجلاس میں شرکت اور خطاب کی باقاعدہ درخواست کی تھی۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی مشن کے ترجمان رچرڈ گرینل کے مطابق ایران کی جانب سے اڑتیس افراد کے لیے ویزے کی درخواستیں بھی بھیج دی گئی ہیں۔ سلامتی کونسل کے موجودہ صدر اور اقوامِ متحدہ میں جنوبی افریقہ کے سفیر دمیسانی کمالو کا کہنا ہے کہ بدھ کو قرارداد پر بات چیت کے لیے ملاقات ہو گی تاہم ووٹنگ کے لیے ابھی حتمی تاریخ طے نہیں ہوئی ہے۔ ایران پر یورینیم کی افزودگی نہ روکنے کی صورت میں عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کی قرارداد کا مسودہ امریکہ اور برطانیہ سمیت چھ ممالک کی منظوری کے بعد جمعہ کو سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل اراکین کو بھیج دیا گیا تھا۔ پابندیوں کی اس قرارداد میں ایران پر نہ صرف اقتصادی پابندیوں بلکہ اسے ہتھیاروں کی فراہمی پر بھی پابندی لگانے کی بات کی گئی ہے۔نئی پابندیوں میں ایران کے جوہری پروگرام سے منسلک اہم ایرانی حکام اور کمپنیوں کے اثاثوں کے انجماد اور امداد یا قرضوں پر پابندی کی شقیں بھی شامل ہیں۔ ادھر ایرانی صدر نے ایک بار پھر جوہری پروگرام جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس جوہری فیول سائیکل ہے اور اسے دباؤ میں آ کر ترک نہیں کیا جائے گا۔ محمود احمدی نژاد نے کہا’ اجلاس منعقد کر کے ایرانی قوم کا راستہ نہیں روکا جا سکتا‘۔ | اسی بارے میں ایران:مزید پابندیوں کی قرار داد تیار16 March, 2007 | آس پاس نئی پابندیوں پر اصولی سمجھوتہ15 March, 2007 | آس پاس ایران کے خلاف پابندیوں پر اختلاف11 March, 2007 | آس پاس سلامتی کونسل سے خطاب کی خواہش 11 March, 2007 | آس پاس ایران پر نئی پابندیوں پر غور27 February, 2007 | آس پاس امریکہ، ایران اور شام سے بات پر تیار27 February, 2007 | آس پاس ’جوہری ٹیکنالوجی بغیربریک کی ٹرین‘25 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||