نئی پابندیوں پر اصولی سمجھوتہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سلامتی کونسل کے مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے سفارت کاروں کے درمیان ایران کی جانب سے یورینیم کی افزودگی نہ روکنے پر عائد کی جانے والی نئی پابندیوں کے حوالے سے اصولی سمجھوتہ ہوگیا ہے۔ خیال ہے کہ نئی پابندیوں کی قرارداد کا مسودہ سلامتی کونسل میں بحث کے لیے جمعرات کو پیش کر دیا جائے گا۔ تاہم اس سے قبل ضروری ہے کہ جرمنی، چین، روس، امریکہ، برطانیہ اور فرانس کی حکومتیں اس مسودے کی منظوری دیں۔ ممکنہ طور پر نئی پابندیوں میں ایران سے ہتھیاروں کی درآمد پر پابندی اور جوہری پروگرام سے منسلک اہم ایرانی حکام اور کمپنیوں کے اثانے منجمد کرنا شامل ہوگا۔ ایک سفارت کار کے خیال میں پابندیوں کی نئی قرارداد میں حکومتوں سے یہ بھی کہا جائےگا کہ وہ ایرانی حکومت کو مالی امداد یا رعایتی قرضے فراہم نہ کریں۔ ادھر اقوامِ متحدہ میں جنوبی افریقہ کے سفیر دمیسانی کمالو کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں سلامتی کونسل کے دس غیر مستقل رکن ممالک کا مؤقف بھی سنا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صحیح نہیں کہ چھ ممالک قرارداد کا مسودہ تیار کر لیں اور ہمیں صرف بطور ربر سٹمپ استعمال کیا جائے۔ اس سوال پر کہ کیا ووٹنگ کی صورت میں ایرانی صدر اقوامِ متحدہ آ سکتے ہیں جنوبی افریقی سفیر کا کہنا تھا کہ کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہو گا کیونکہ ابھی ووٹنگ کا کوئی شیڈول ہی طے نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر سلامتی کونسل آئندہ ہفتے اس قرارداد پر ووٹنگ کر سکتی ہے۔ | اسی بارے میں ایران کے خلاف پابندیوں پر اختلاف11 March, 2007 | آس پاس سلامتی کونسل سے خطاب کی خواہش 11 March, 2007 | آس پاس ایران پر نئی پابندیوں پر غور27 February, 2007 | آس پاس امریکہ، ایران اور شام سے بات پر تیار27 February, 2007 | آس پاس ’جوہری ٹیکنالوجی بغیربریک کی ٹرین‘25 February, 2007 | آس پاس ایٹمی صلاحیت جلد از جلد: ایران21 February, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||