’ایرانی سفارکار پر تشدد نہیں کیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے گزشتہ ہفتے رہا ہونے والے مغوی ایرانی سفارتکار کے اس دعویٰ کو مسترد کیا ہے کہ دوران حراست ان پر تشدد کرنے والے لوگوں میں خفیہ ادارے سی آئی اے کے ایجنٹ بھی شامل تھے۔ امریکی ترجمان نے کہا کہ جلال شرافی کا الزام کہ ان کے اغوا میں امریکہ کا ہاتھ تھا۔ ان کے مطابق یہ ’ایران کی پروپیگنڈا مشین کی ڈرامہ بازی ہے۔‘ فروری کے دوران عراق میں اغوا ہونے والے سفارتکار جلال شرافی بغداد میں ایرانی سفارتخانے کے سیکریٹری دوم تھے۔ انہوں نے ایرانی ذرائع ابلاغ سے گفتگو کے دوران بتایا تھا کہ سی آئی اے کے ایجنٹ ان سے عراق میں ایران کے کردار کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان گورڈن جوہنڈرے نے کہا ’ مسٹر شرافی کے اغوا سے امریکہ کا کوئی تعلق نہیں اور ہم ان کی ایران واپسی پر خوش آمدید کہتے ہیں۔‘ ترجمان نے مزید کہا ’ یہ اس حکومت کی نئی ڈرامہ بازی ہے جو اپنی ناقابل قبول حرکتوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانا چاہتی ہے۔‘ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے علاوہ عراق میں امریکی فوج کے ترجمان نے بھی کہا ہے کہ مسٹر شرافی کے اغواء یا ان پر تشدد سے اتحادی فوجوں کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس سے قبل جلال شرافی نےایرانی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ انہیں اغواء کرنے والوں نے عراقی فوجی وردی پہن رکھی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ ان پر دن رات تشدد کیا جاتا تھا۔ جلال شرافی کا کہنا تھا کہ انہیں بغداد کی ایک سڑک سے اس وقت اغواء کیا گیا جب وہ خریداری کر رہے تھے اور انہیں جس نے اغواء کیا اس کے پاس عراقی وزارتِ دفاع کا شناختی کارڈ تھا۔ نائب سیکریٹری نے بتایا کہ انہیں بغداد کے کرادا ڈسٹرکٹ سے اغوا کیا گیا اور بغداد کے شہری ہوائی اڈے کے قریب واقع فوجی اڈے پر رکھا گیا اور ان سے عربی اور انگریزی میں پوچھ گچھ کی گئی۔ ان کے مطابق سی آئی اے ایجنٹوں کے سوالات زیادہ تر عراق میں ایرانی موجودگی اور عراقیوں پر ایران کے اثر و نفوذ کے بارے میں تھے۔ جلال شرافی کو تین اپریل کو رہا کیا گیا تھا۔ ان کی رہایی کے بعد عراق کے وزیر خارجہ ہوشیار زبیری نے کہا تھا کہ عراق حکومت کے علم میں نہیں کہ جلال شرافی کو کس نے اغوا کیا تھا۔ | اسی بارے میں عراق سے مغوی ایرانی سفارتکار رہا27 September, 2004 | آس پاس عراق میں ایرانی سفارتکار ہلاک15 April, 2004 | آس پاس برطانوی فوجی رہا کر دیے ہیں: ایران04 April, 2007 | آس پاس کوئی ڈیل نہیں ہوئی: بلیئر05 April, 2007 | آس پاس ’برطانیہ نے معافی مانگی ہے‘06 April, 2007 | آس پاس ’ایران میں ہم پر کیا گزری‘ 06 April, 2007 | آس پاس برطانوی فوجی وطن پہنچ گئے05 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||