BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 08 April, 2007, 00:52 GMT 05:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقی شہر دیوانیہ میں لڑائی جاری
جمعہ کے دن دیوانیہ میں امریکی فوجی قافلہ
شیعہ ملیشیا کو دیوانیہ شہر سے باہرنکالنے کی کوشش
امریکی اور عراقی فوجی دستے شیعہ ملیشیا کے ساتھ دوسرے دن بھی شدید لڑائی میں الجھے رہے ۔ شیعہ ملیشیا سے جھڑپوں کی ابتداء اس وقت ہوئی جب امریکی اور عراقی فوجی دستوں نے ملیشیا کو شہر سے نکالنے کی کارروائی شروع کی۔

یہ لرائی حالیہ سکیورٹی آپریشن کو بغداد کے علاوہ ملک کے دوسرے شہروں تک پھیلانے کی مہم کا حصہ ہے۔

باغی شیعہ رہنما مقتداالصدر کی حامی ملیشیا کے خلاف حملوں میں ٹینک اور طیارے فوجی دستوں کی مددد کر رہے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق امریکہ یہ بھی واضح کر رہا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں اس شہر تک ہی محدود نہیں ہونگی۔

طبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں کم از کم چار شہری مارے گئے ہیں۔

امریکی اور عراقی فوجی دستوں نے جمعہ کی صبح دیوانیہ میں ’آپریشن بلیک ایگل‘شروع کیا تھا۔

شہر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا اور لیف لیٹ گرائے گئے جس میں لوگوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی گئی ۔

امریکی فوجی ترجمان لیفٹیننٹ کرنل سکوٹ بلیچ ویل نے بتایا کہ ایک ٹھکانے پر حملے میں ایک شخص ہلاک ہو گیا اس کے علاوہ تین امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں۔

گزشتہ ایک سال میں دیوانیہ نے ملیشیا اور سیکیورٹی دستوں کے درمیان کئی جھڑپیں دیکھی ہیں۔

بغداد میں بی بی سی کے عالمی امور کے نامہ نگار جوناتھن چارلس کا کہنا ہے کہ اب امریکہ کو لگتا ہے کہ عراق کے استحکام کو ’سنی شورش‘ سے زیادہ مقتدا الصدر سے خطرہ ہے۔

اسی بارے میں
شیعہ جماعت حکومت سے الگ
07 March, 2007 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد