عراق: حملوں میں ستر افراد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے شمال مغربی سرحدی شہر تلعفر میں بدھ کو نامعلوم حملہ آوروں نے فائرنگ کر کے کم از کم ستر سنی افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ عراقی حکام کے مطابق حملہ آوروں کی طرف سے فائرنگ شہر کے ایک ایسے علاقے میں کی گئی جہاں کی شیعہ، سنی اور ترکمان آبادی میں تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ فائرنگ اور ہلاکتوں کا یہ واقعہ منگل کو تلعفر میں ہی ایک شیعہ اکثریت والے علاقے میں ہونے والے بم دھماکوں کا ردعمل ہو سکتا ہے۔ ان بم دھماکوں میں پچپن افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ تشدد کی اس لہر کے بعد تلعفر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ موصل میں عراقی فوج کے ایک ترجمان لیفٹیننٹ کرنل محمد احمد صالح نے فائرنگ کی نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کو انتقامی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ تلعفر کے میئر بریگیڈیر نجم الجبوری نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ شیعہ مسلح گروہوں نے گھروں میں گھس کر سنیوں کو ہلاک کیا۔ اطلاعات کے مطابق حملہ آور چھٹی پر گئے ہوئے پولیس والے بھی ہو سکتے ہیں۔ | اسی بارے میں ٹرک بم دھماکوں میں 50 ہلاک27 March, 2007 | آس پاس عراق : بم دھماکے، پانچ امریکی ہلاک26 March, 2007 | آس پاس عراق: خود کش حملے، پچاس ہلاک24 March, 2007 | آس پاس نائب وزیر اعظم دھماکہ میں زخمی 23 March, 2007 | آس پاس عراقیوں میں ’بڑھتی ہوئی نااُمیدی‘19 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||