عراقیوں میں ’بڑھتی ہوئی نااُمیدی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں کی جانی والی ایک تازہ سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقی عوام میں مستقبل کے حوالے سے ناامیدی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اپنی زندگیوں سے خاص خوش نہیں ہیں۔ دو سال قبل کیے جانے والے ایک سروے جس میں 71 فیصد لوگوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں، اس مرتبہ چالیس فیصد سے کم افراد نے اسی رائے کا اظہار کیا۔ تاہم سروے میں شامل افراد کی اکثریت کا کہنا تھا کہ روزانہ ہونے والے تشدد کے باوجود وہ یہ نہیں مانتے کہ عراق خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔ دو ہزار سے زائد افراد نے بی بی سی اور اے بی سی نیوز کے اس سروے میں حصہ لیا۔ سروے ڈی تھری سسٹم کے تحت کروایا گیا تھا۔ حالیہ سروے عراقی عوام میں تیزی سے بڑھتی تفریق کے ساتھ ملک میں آباد سنی اور شعیہ آبادی کے انتہائی متضاد خیالات کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں سنی زیادہ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ نااُمیدی کے ساتھ ساتھ علاقائی تفریق بھی بغداد سمیت، جہاں سنیوں کا اثر زیادہ ہے، عراق کے تمام حصوں میں نمایاں ہے۔ تاہم ان تضادات کے باوجود 58 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ عراق ایک متحد ملک کے طور پر قائم رہے۔ تقریبًا تمام ہی افراد کا کہنا تھا کہ وہ عراق کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔
رائے عامہ کے جائزے میں امریکہ اور اس کی اتحادی فوج کے کردار کے بارے میں بھی متضاد آراء سامنے آئی ہیں۔ صرف اٹھارہ فیصد افراد نے اتحادی فوج پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا جبکہ اکیاون فیصد کا کہنا تھا کہ اتحادی فوج پر کیے جانے والے حملے درست ہیں۔ محض 35 فیصد کا کہنا تھا کہ غیر ملکی افواج کو اب عراق سے نکل جانا چاہیے۔ تاہم 63 فیصد افراد کے مطابق غیر ملکی فوج کو ملک میں سکیورٹی کی صورت حال میں بہتری کے بعد ہی عراق سے جانا چاہیے۔ عراقی عوام کی آراء پر مشتمل اس تازہ عوامی جائزہ کے بالکل برعکس، 2005 میں اسی طرح کے ملتے جلتے ایک سروے میں عراقی عوام نے مستقبل کے بارے میں بڑی امید کا اظہار کیا تھا۔ جب لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا ان کے مطابق کیا عراق میں تعمیرِ نو کی کوششیں موثر ثابت ہوئیں تو 67 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں ایسا نہیں ہوا۔ اڑتیس فیصد افراد کا کہنا تھا کہ 2003 کی جنگ کی نسبت ملک میں اس وقت صورت حال بہتر ہے جبکہ پچاس فیصد کے مطابق ملک میں حالات انتہائی بدتر ہیں۔ سروے میں حصہ لینے والے افراد کی اکثریت کے مطابق ان کی زندگیوں میں بگاڑ گہرا ہوتا جا رہا ہے اور خاص طور پر 88 فیصد کے نزدیک بجلی اور ایندھن کی سپلائی کا معیار انتہائی ناقص ہے۔ زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ بازاروں یا پرُ ہجوم مقامات پر نہیں جاتے اور کسی پریشانی سے بچنے کے لیے گھر پر رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
ملکی آبادی میں معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیے جانے پر نسلی تضادات اس لحاظ سے بڑے واضح ہیں کہ وہ سنی عرب ہونے کے باوجود شعیہ اکثریت پر مشتمل ریاست کے سربراہ تھے۔ ملک کی سنی عرب آبادی سے پوچھے گئے سوالات اور ان سے حاصل جوابات کے مطابق 95 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کا عمل قطعی غیر مناسب تھا اور ان کی پھانسی سے عراق کو متحد کرنے کی کوششوں میں کوئی مدد نہیں ملے گی جبکہ 82 فیصد شیعہ آبادی کا ماننا تھا کہ ان کو پھانسی دیے جانے کا عمل بالکل مناسب تھا۔ سنیوں کی ایک بڑی تعداد یعنی 48 فیصد کے مطابق عراق کے عوام کو پانچ سال کے اندر کسی مضبوط سیاسی رہنما کا انتخاب کرلینا چاہیے جبکہ ان کی نسبت 46 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت کے خواہش مند ہیں۔ صرف گیارہ فیصد شعیہ افراد نے کسی مضبوط رہنما جبکہ 52 فیصد نے ملک میں جمہوریت اور 37 فیصد نے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی بات کی۔ |
اسی بارے میں 655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے11 October, 2006 | آس پاس عراق میں تشدد صدام دور سے زیادہ21 September, 2006 | آس پاس ’حالات نہ بدلے تو عراق ٹوٹ جائے گا‘19 September, 2006 | آس پاس عراق: 2دھماکوں میں 40 ہلاک11 March, 2007 | آس پاس عراق کی تعمیرِ نو، عالمی مدد کی اپیل17 March, 2007 | آس پاس سکیورٹی کانفرنس مثبت: عراق10 March, 2007 | آس پاس عراق کے لیے مزید امریکی فوجی08 March, 2007 | آس پاس عراق: حملے میں 90 زائرین ہلاک 06 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||