BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 March, 2007, 08:39 GMT 13:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراقیوں میں ’بڑھتی ہوئی نااُمیدی‘
عراق میں رائے عامہ کا جائزہ
67 فیصد افراد کے مطابق عراق میں تعمیرِ نو کی کوششیں موثر ثابت نہیں ہوئیں: سروے
عراق میں کی جانی والی ایک تازہ سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عراقی عوام میں مستقبل کے حوالے سے ناامیدی میں اضافہ ہو رہا ہے اور وہ اپنی زندگیوں سے خاص خوش نہیں ہیں۔

دو سال قبل کیے جانے والے ایک سروے جس میں 71 فیصد لوگوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہیں، اس مرتبہ چالیس فیصد سے کم افراد نے اسی رائے کا اظہار کیا۔

تاہم سروے میں شامل افراد کی اکثریت کا کہنا تھا کہ روزانہ ہونے والے تشدد کے باوجود وہ یہ نہیں مانتے کہ عراق خانہ جنگی کے دہانے پر ہے۔

دو ہزار سے زائد افراد نے بی بی سی اور اے بی سی نیوز کے اس سروے میں حصہ لیا۔ سروے ڈی تھری سسٹم کے تحت کروایا گیا تھا۔

حالیہ سروے عراقی عوام میں تیزی سے بڑھتی تفریق کے ساتھ ملک میں آباد سنی اور شعیہ آبادی کے انتہائی متضاد خیالات کی تصویر پیش کرتا ہے جس میں سنی زیادہ مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ نااُمیدی کے ساتھ ساتھ علاقائی تفریق بھی بغداد سمیت، جہاں سنیوں کا اثر زیادہ ہے، عراق کے تمام حصوں میں نمایاں ہے۔ تاہم ان تضادات کے باوجود 58 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ عراق ایک متحد ملک کے طور پر قائم رہے۔ تقریبًا تمام ہی افراد کا کہنا تھا کہ وہ عراق کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کے حق میں نہیں ہیں۔

اکیاون فیصد عراقیوں کا کہنا تھا کہ اتحادی فوج پر کیے جانے والے حملے درست ہیں (فائل فوٹو)

رائے عامہ کے جائزے میں امریکہ اور اس کی اتحادی فوج کے کردار کے بارے میں بھی متضاد آراء سامنے آئی ہیں۔ صرف اٹھارہ فیصد افراد نے اتحادی فوج پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا جبکہ اکیاون فیصد کا کہنا تھا کہ اتحادی فوج پر کیے جانے والے حملے درست ہیں۔ محض 35 فیصد کا کہنا تھا کہ غیر ملکی افواج کو اب عراق سے نکل جانا چاہیے۔ تاہم 63 فیصد افراد کے مطابق غیر ملکی فوج کو ملک میں سکیورٹی کی صورت حال میں بہتری کے بعد ہی عراق سے جانا چاہیے۔

عراقی عوام کی آراء پر مشتمل اس تازہ عوامی جائزہ کے بالکل برعکس، 2005 میں اسی طرح کے ملتے جلتے ایک سروے میں عراقی عوام نے مستقبل کے بارے میں بڑی امید کا اظہار کیا تھا۔

جب لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا کہ آیا ان کے مطابق کیا عراق میں تعمیرِ نو کی کوششیں موثر ثابت ہوئیں تو 67 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ وہ یہ محسوس کرتے ہیں ایسا نہیں ہوا۔

اڑتیس فیصد افراد کا کہنا تھا کہ 2003 کی جنگ کی نسبت ملک میں اس وقت صورت حال بہتر ہے جبکہ پچاس فیصد کے مطابق ملک میں حالات انتہائی بدتر ہیں۔

سروے میں حصہ لینے والے افراد کی اکثریت کے مطابق ان کی زندگیوں میں بگاڑ گہرا ہوتا جا رہا ہے اور خاص طور پر 88 فیصد کے نزدیک بجلی اور ایندھن کی سپلائی کا معیار انتہائی ناقص ہے۔

زیادہ تر لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ بازاروں یا پرُ ہجوم مقامات پر نہیں جاتے اور کسی پریشانی سے بچنے کے لیے گھر پر رہنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔

عراق میں گزشتہ عرصے کے دوران فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے (فائل فوٹو)

ملکی آبادی میں معزول صدر صدام حسین کو پھانسی دیے جانے پر نسلی تضادات اس لحاظ سے بڑے واضح ہیں کہ وہ سنی عرب ہونے کے باوجود شعیہ اکثریت پر مشتمل ریاست کے سربراہ تھے۔

ملک کی سنی عرب آبادی سے پوچھے گئے سوالات اور ان سے حاصل جوابات کے مطابق 95 فیصد کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں صدام حسین کو پھانسی دیے جانے کا عمل قطعی غیر مناسب تھا اور ان کی پھانسی سے عراق کو متحد کرنے کی کوششوں میں کوئی مدد نہیں ملے گی جبکہ 82 فیصد شیعہ آبادی کا ماننا تھا کہ ان کو پھانسی دیے جانے کا عمل بالکل مناسب تھا۔

سنیوں کی ایک بڑی تعداد یعنی 48 فیصد کے مطابق عراق کے عوام کو پانچ سال کے اندر کسی مضبوط سیاسی رہنما کا انتخاب کرلینا چاہیے جبکہ ان کی نسبت 46 فیصد کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں جمہوریت کے خواہش مند ہیں۔

صرف گیارہ فیصد شعیہ افراد نے کسی مضبوط رہنما جبکہ 52 فیصد نے ملک میں جمہوریت اور 37 فیصد نے ایک اسلامی ریاست کے قیام کی بات کی۔

بساطامریکہ، صدام، عراق
بساطِ سیاست: خبروں، تجزیوں کا مجموعہ
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
عراقی پناہ گزینعراق سے نقل مکانی
ہر آٹھواں عراقی گھر بار چھوڑنے پر مجبور
مقتدہ الصدرعراق میں تشدد
عراق: فرقہ وارانہ تشدد کی لہر، تصاویر
اسی بارے میں
655000 عراقی ہلاک ہوئے: سروے
11 October, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد