BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 17 March, 2007, 04:11 GMT 09:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق کی تعمیرِ نو، عالمی مدد کی اپیل
عراق
عراق کی مشکلات میں سے ایک اہم مشکل انسانی بحران بھی ہے
عراقی نائب صدر نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کی ایک کانفرنس میں عراق کی تعمیرِ نو کے پانچ سالہ منصوبے کی تفصیلات بتائی ہیں۔

عادل عبدالمہدی نے اپنی تقریر میں نہ صرف سالانہ ترقی کے اہداف کا ابتدائی خاکہ پیش کیا بلکہ ملک میں سکیورٹی میں بہتری، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے تحفظ اور رشوت ستانی پر قابو پانے کی یقین دہانی بھی کروائی۔

عراقی نائب صدر نے عراقی تیل سے حاصل ہونے والی رقم کی تقسیم کے لیےقانون سازی اور ہتھیار پھینک دینے والے مزاحمت کاروں کو عام معافی دینے کی سکیم کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا’ ہم عالمی برادری کی مدد سے عراق کو حالیہ بحران سے باہر نکالنا چاہتے ہیں‘۔

 سامنے موجود چیلنجز بہت بڑے ہیں۔ سیاسی تشدد اور فرقہ واریت کے علاوہ عراق میں ایک ایسا بحران بھی موجود ہے جس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے
بان کی مون

تعمیرِ نو کے اس منصوبے کے حوالے سے اقوامِ عالم کی جانب سے امداد کے وعدوں کا اعلان آئندہ ماہ متوقع ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی اقوامِ عالم پر زور دیا ہے کہ وہ اس منصوبے کی حمایت کریں اور عراق کو اس ابتلاء کے دور میں تنہا نہ چھوڑیں۔ بان کی مون نے کہا’ سامنے موجود چیلنجز بہت بڑے ہیں۔ سیاسی تشدد اور فرقہ واریت کے علاوہ عراق میں ایک ایسا بحران بھی موجود ہے جس کے نتیجے میں عام آدمی کی زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے‘۔

امریکی نائب وزیرِ خزانہ رابرٹ کمٹ کا کہنا تھا ’ عراق میں کامیابی صرف ایک مشترکہ سیاسی، حفاظتی اور اقتصادی حکمتِ عملی پر عمل کے نتیجے میں ہی حاصل کی جا سکتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ عراقیوں نے اپنا کام کر لیا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی برادری کیا کرتی ہے۔

عراق کی تعمیرِ نو کے منصوبے کے تحت سنہ 2007 میں اقتصادی شرحِ ترق پندرہ اعشایہ چار فیصد رہنے کی امید ہے جو کہ گزشتہ برس کی نسبت بارہ فیصد سے بھی زیادہ ہے۔اس منصوبے کے تحت 2011 تک روزانہ نکالے جانے والے خام تیل کی مقدار پینتیس لاکھ بیرل تک بڑھائی جائےگی اور اس تیل کی درآمد سے عراق کو ہونے پچاس ارب ڈالر آمدن کی امید ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد