عراق: تیل کا نیا قانون منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی کابینہ نے قومی تیل کے قانون کے نئے مسودے کو منظور کیا ہے جس کے تحت ملک کے تیل کے ذخائر سے آنے والی آمدنی اٹھارہ صوبوں میں مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی۔ عراق کے وزیرِ اعظم نور المالکی نے اس معاہدے کو ’عراق کے سارے عوام کے لیے تحفہ قرار دیا ہے‘۔ بل کا مسودہ اب ووٹنگ کے لیے عراق کی پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے گا، جہاں منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔ عراق تیل کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ عراق میں آجکل تیل کے زیادہ ذخائر جنوب میں شیعہ اکثریت کے علاقے میں ہیں جبکہ مستقبل میں کرد اکثریت کے شمالی علاقے میں تیل کے بڑے ذخائر ملنے کی امید ہے۔ امریکہ نے عراقی کابینہ کے اس فیصلے کو خوش آمدید کہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ’اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بغداد میں حکومت تمام عراقیوں کی فلاح کے لیے کام کر رہی ہے‘۔ نئے قانون کا مسودہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ عراق کے خام تیل کی تقسیم شیعہ، سنی اور کردوں کے درمیان مساوی طور پر ہو سکے اور تیل کی صنعت کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔ نامہ نگاروں کے مطابق نیا اقدام جو کہ بحث کا ایک گرم موضوع تھا شیعہ، سنیوں اور کردوں کے درمیان تعلقات بحال کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔ | اسی بارے میں رشوت ستانی، تیل کمپنیوں کو جرمانہ07 February, 2007 | آس پاس ’عراق، اربوں ڈالر بھیجنا درست تھا‘07 February, 2007 | آس پاس عراقی اختلافات جلد حل کریں: رائس06 October, 2006 | آس پاس یورپ : انرجی کی نئی حکمت عملی 10 January, 2007 | آس پاس عراق:’بد عنوانی سےاربوں کانقصان‘09 November, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||