BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 February, 2007, 05:37 GMT 10:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عراق: تیل کا نیا قانون منظور
تیل کے ذخائر
نئے قانون کے تحت تیل کی آمدنی اٹھارہ سوبوں میں تقسیم کی جائے گی
عراق کی کابینہ نے قومی تیل کے قانون کے نئے مسودے کو منظور کیا ہے جس کے تحت ملک کے تیل کے ذخائر سے آنے والی آمدنی اٹھارہ صوبوں میں مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی۔

عراق کے وزیرِ اعظم نور المالکی نے اس معاہدے کو ’عراق کے سارے عوام کے لیے تحفہ قرار دیا ہے‘۔

بل کا مسودہ اب ووٹنگ کے لیے عراق کی پارلیمان کے سامنے پیش کیا جائے گا، جہاں منظوری کے بعد یہ قانون بن جائے گا۔

عراق تیل کے سب سے زیادہ ذخائر رکھنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ عراق میں آجکل تیل کے زیادہ ذخائر جنوب میں شیعہ اکثریت کے علاقے میں ہیں جبکہ مستقبل میں کرد اکثریت کے شمالی علاقے میں تیل کے بڑے ذخائر ملنے کی امید ہے۔

امریکہ نے عراقی کابینہ کے اس فیصلے کو خوش آمدید کہا ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق ’اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بغداد میں حکومت تمام عراقیوں کی فلاح کے لیے کام کر رہی ہے‘۔

نئے قانون کا مسودہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ عراق کے خام تیل کی تقسیم شیعہ، سنی اور کردوں کے درمیان مساوی طور پر ہو سکے اور تیل کی صنعت کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے اربوں ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے۔

نامہ نگاروں کے مطابق نیا اقدام جو کہ بحث کا ایک گرم موضوع تھا شیعہ، سنیوں اور کردوں کے درمیان تعلقات بحال کرنے میں معاون ثابت ہو گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد