BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 March, 2007, 16:17 GMT 21:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سکیورٹی کانفرنس مثبت: عراق
اس کانفرنس کے موقع پر ایران، شام اور امریکہ اکٹھے ہوئے
عراق میں سکیورٹی بحال کرنے کے لیے ہونے والی کانفرنس میں امریکہ، ایران، شام اور عراق کے دیگر پڑوسی ممالک نے شرکت کی ہے۔ عراقی وزیر خارجہ ہوشیار زیباری نے سنیچر کے روز ہونے والی اس کانفرنس کو ’مثبت‘ قرار دیا ہے۔

اس کانفرنس کے دوران امریکی سفیر زلمے خلیلزاد نے عراق کے پڑوسی ممالک سے اپیل کی کہ وہ عراق میں تشدد کے خاتمے کے لیے کام کریں اور اسلحے کی آمد کو روکیں۔

اس موقع پر ایک ایرانی سفیر نے اس بات سے انکار کیا کہ ایران عراق میں مداخلت کررہا ہے۔ ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ عراق میں تشدد کی وجہ غیرملکی افواج کی موجودگی ہے۔ امریکہ عراق میں عدم استحکام اور مزاحمت کاروں کی حمایت کے لیے شام اور ایران پر الزام لگاتا رہا ہے۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک میں استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق سے غیرملکی افواج کا انخلاء ضروری ہے۔اس موقع پر ایرانی نائب وزیر خارجہ نے چھ ایرانی سفیروں کی رہائی کے لیے بھی اپیل کی جنہیں دو ماہ قبل عراق میں امریکی افواج نے حراست میں لے لیا تھا۔

ایرانی سفیر کا موقف
 ایران کے نائب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک میں استحکام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق سے غیرملکی افواج کا انخلاء ضروری ہے۔اس موقع پر ایرانی نائب وزیر خارجہ نے چھ ایرانی سفیروں کی رہائی کے لیے بھی اپیل کی جنہیں دو ماہ قبل عراق میں امریکی افواج نے حراست میں لے لیا تھا۔
بغداد میں آج جیسے ہی کانفرنس کا آغاز ہوا کانفرنس کے مقام کے قریب دو مارٹر گولے گرے اور شہر میں ایک خودکش حملہ ہوا۔ ان حملوں میں کم سے کم بیس افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

کانفرنس کا مقصد خطے کے ممالک کی مستحکم عراق کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے۔ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عراق ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ اپنے ہمسایوں کی مدد کے بغیر نہیں جیت سکتا۔

عراق میں تشدد کے خاتمے کے لیے بلائی جانے والی اس کانفرنس میں ایک عرصے کے بعد پہلی بار امریکی، شامی اور ایرنی حکام اکٹھے شریک ہوئے ہیں۔ امریکہ ایران اور شام پر عراق میں عدم استحکام پھیلانے کا مسلسل الزام لگاتا آ رہا ہے۔ امریکی سفیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ منتشر عراق کسی کے لیے فائدہ مند نہیں۔

اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، عرب لیگ اور گلف کوآپریشن کونسل کے ارکان اور عراق کے دیگر پڑوسی ممالک نے بھی حصہ لیا۔ اسی طرح کا ایک اجلاس اپریل میں بھی بلایا گیا ہے جس میں موجود ممالک کے وزرائے خارجہ شامل ہوں گے۔

کانفرنس کے دوران مندوبین کی توجہ عراق میں بڑھتی ہوئی سنی شیعہ تقسیم پر بھی رہی۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایران اور سعودی عرب ماضی میں لبنان اور فلسطین میں اسی طرح کی صورتحال میں امن کے لیے مِل کر کام کر چکے ہیں۔

امریکی فوجیعراق پالیسی اور ووٹر
کیا صدر بُش مزید امریکی فوجی بھیجیں گے؟
دیکھیےبدترین تشدد
عراق میں خودکش بم حملوں کی تصاویر
کربلا میں اربعین کی تقریباتکربلا میں اربعین
کربلا میں اربعین تقریبات میں ہزاروں شریک
عراق میں غربت
امریکی حملے کے بعد عوام غریب تر: رپورٹ
امریکہ کو ’پیشکش‘
’حزب اللہ کی مدد بند کرنے کی پیشکش کی‘
کیا یہ اہم موڑ ہے؟
امریکہ عراق میں جیتا ہے یا تہنا ہوا ہے؟
عراقی تعمیر نو
عراقی تعمیرنو کےفنڈز ضائع ہو رہے ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد