’عراق مسئلے کا فوجی حل نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں امریکی فوجی کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹراس نے کہا ہے کہ عراق مسلئے کا فوجی حل ممکن نہیں ہے۔ عراق میں امن عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تیار کیے جانے والے منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے کہا ہے کہ عراق میں مزید فوجی بھیجنے سے وہاں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوئی ہے لیکن مزاحمت کاری کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے سیاسی مصالحت کی ضرورت ہے۔ جنرل ڈیوڈ پیٹرس کو پچھلے مہینے عراق میں امریکی فوج کا کمانڈر مقرر کیا گیا جنرل پیٹراس نے کہا کہ فوجی ایکشن کی ضرورت ہے لیکن صرف فوجی ایکشن مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے عراق کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر قابو پانے کے لیے مزید چوبیس ہزار فوجی بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا۔ چند ہزار فوجی پہلے ہی عراق پہنچ چکے ہیں۔ امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ دو ہزار مزید فوجی عراق بھیج رہا ہے تا کہ وہ وہاں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹیں۔ جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے کہا کہ فوجی کمک کے بعد عراق کے حالات میں بہتری آئی ہے لیکن ساتھ ساتھ انہوں نے خبردار کیا کہ مزاحمت کاروں کے حملے جاری رہیں گے۔ جنرل پیٹراس نے کہا کہ مزاحمت کاروں کے ایسے گروپ جو محسوس کرتے ہیں کہ عراق میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہے ان کے ساتھ بات چیت ہونی چاہیے۔ بی بی سی کے دفاعی نامہ نگار راب واٹسن کا کہنا ہے کہ عراق میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کے باوجود امریکی فوجیوں کی تعداد اتنی نہیں ہے کہ اس سے امن عامہ کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے۔ | اسی بارے میں عراق کانفرنس:ایران شرکت کرے گا01 March, 2007 | آس پاس امریکہ کی جیت یا تنہائی ؟22 February, 2007 | آس پاس عراق: نو امریکی فوجی ہلاک 06 March, 2007 | آس پاس عراقی نائب صدر حملے میں زخمی26 February, 2007 | آس پاس عراقی شیعہ زائرین پر حملے جاری 07 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||