امن اجلاس: امریکہ، شام ایران اکٹھے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں استحکام کے لیے بلائی گئی ایک عالمی کانفرنس میں ایک عرصے کے بعد پہلی بار امریکی، شامی اور ایرنی حکام اکٹھے شریک ہو رہے ہیں۔ کانفرنس کا مقصد خطے کے ممالک کی مستحکم عراق کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے۔ سنیچر کے روز ہونے والی اس کانفرنس میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان، عرب لیگ اور گلف کوآپریشن کونسل کے ارکان اور عراق کے دیگر پڑوسی ممالک حِصّہ لے رہے ہیں۔ اسی طرح کا ایک اجلاس اپریل میں بھی بلایا گیا ہے جس میں شریک ممالک کے وزرائے خارجہ شامل ہوں گے۔ کانفرنس کے دوران زیادہ توجہ عراق میں بڑھتے ہوئے سنی شیعہ تقسیم پر دی جائے گی۔ بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ایران اور سعودی عرب ماضی میں لبنان اور فلسطین میں اسی طرح کی صورتحال میں امن کے لیے مِل کر کام کر چکے ہیں۔ عراق میں ایک شیعہ رہنما نے کربلا میں ہزاروں شیعہ زائرین سے خطاب کرتے ہوئے گزشتہ چار سال میں ہونے والے کام کو آگے بڑھانے کے لیے کہا۔ دریں اثناء صدر جارج بُش لاطینی امریکہ کے دورے کے دوران اس کانفرنس سے قبل سخت مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ شام اور ایران کے لیے امریکہ کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔ صدر بُش نے عراق میں بد امنی سے نمٹنے کے لیے مزید بیس ہزار فوجی وہاں بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے جو کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں جمعہ کے روز یہ بتانے کے لیے کہ حالات بہتر ہو رہے ہیں بغداد کی سڑکوں پر نکل کر لوگوں سے بات چیت کی۔ | اسی بارے میں میونخ کانفرنس، توجہ ایران پر11 February, 2007 | آس پاس عراق کانفرنس:ایران شرکت کرے گا01 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||