’امریکہ اپنی ذمہ داری پوری کرے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اردن کے شاہ عبداللہ نے واشنگٹن میں کانگرس کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ مشرق وسطی میں مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔ اردن کے شاہ عبداللہ نے کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب، امریکہ کے اتحادی اور پراعتماد دوست کی حیثیت سے کیا۔ اس خطاب میں امریکہ کے لیے تعریف اور ستائشی کلمات کے علاوہ واضح اشارے بھی تھے اور اسرائیل فلسطین تنازعہ سے لا تعلقی پر تنقید بھی۔ شاہ عبداللہ نے کہا کہ مشرق وسطی کی موجودہ صورت حال تشویشناک اور ناقابلِ برداشت ہے اور یہ نہ صرف مشرق وسطی بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے۔ شاہ عبداللہ نے خبردار کیا کہ تشدد کا نہ ختم ہونا والا سلسلہ بڑی تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے جو پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ پر اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس مسئلہ پر قائدانہ کردار ادا کرتے ہوئے اس کے حل کے لیے کوشش کرے۔ اردن کے شاہ نے کہا کہ عراق سے زیادہ ضروری ہے کہ مسئلہ فلسطین کو حل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ برس سے فلسطینیوں کی دربدری اور چالیس سال سے جاری اسرائیل کے قبضے نے مایوسی اور ناامیدی کی تلخ اور طویل داستان مرتب کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی طرح ہمارے خطے میں بھی عراق کے بارے میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پوری عالمی برادری کو عراق کی سلامتی، یکجہتی اور مستقبل کے بارے میں اہم فیصلے کرنے ہیں۔ لیکن ہم حقیقیت سے منہ نہیں موڑ سکتے کہ خطے میں تضاد، مایوسی اور بے چینی کی اصل وجہ فلسطین میں انصاف کا نہ کیا جانا ہے۔ انہوں نے کہا اس سے زیادہ کیا چیز امریکہ کی اخلاقی برتری دنیا پر ثابت کر سکتی ہے کہ یہ اپنی قائدانہ صلاحیت سے امن کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے آئندہ پانچ سال میں نہیں، آئندہ سال نہیں بلکے اسی سال اس مسئلہ کو حل کر سکتا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار جین لٹل کے مطابق شاہ عبداللہ نے کہا کہ امریکہ کو اپنی اخلاقی ساکھ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مربوط کرکے اسرائیل فلسطین تنازعہ کو حل کرنا چاہیے اور ایک مختلف روایت قائم کرنی چاہیے۔ انہوں نے سنہ دو ہزار دو میں سعودی عرب کی طرف سے پیش کردہ امن فارمولے کی حمایت کی۔ اس فارمولے میں فلسطینی ریاست کے قیام کے عوض پوری عرب دنیا کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پوری عالمی برادری کو مل کر اس مسئلہ کو حل کرنا ہوگا اور خاص طور پر امریکہ کو اس میں شامل ہو کر اس سلسلے کو آگے بڑھانا ہو گا۔ شاہ عبداللہ پہلی مرتبہ کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اس سے قبل ان کے والد انیس سو چورانے میں کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کر چکے ہیں۔ اس وقت اوسلو امن معاہدے کے بعد عرب اسرائیل تنازعے کے حل ہوجانے کی بڑی امیدیں تھیں۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو چورانے میں ان کے والد نے اسرائیل کے وزیر اعظم اسحق رابن کی موجودگی میں ایک نئے مشرق وسطی کی بات کی تھی اور امن کے لیے ان کے جرتمندانہ کام کی امریکہ میں دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے حمایت کی تھی۔ انہوں نے کہا ’تیرہ سال گزر جانے کے باوجود وہ کام اب بھی ادھورا ہے اور جب تک یہ ادھورا رہے گا ہم سب کو خطرہ ہے۔‘ | اسی بارے میں اسماعیل ہنیہ: پیش رفت کی امید ہے06 February, 2007 | آس پاس قومی حکومت بنانے کی دعوت16 February, 2007 | آس پاس مشرقِ وسطیٰ: آج سہ فریقی مذاکرات19 February, 2007 | آس پاس مذاکرات جاری رہیں گے: رائس19 February, 2007 | آس پاس رملہ میں چھاپہ، اٹھارہ گرفتار07 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||