BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 February, 2007, 00:47 GMT 05:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی حکومت بنانے کی دعوت
محمود عباس حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کو قومی حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہوئے
فلسطین میں قومی یکجہتی کی حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ اور ان کی پوری کابینہ مستعفی ہوگئے ہیں۔

یہ استعفیٰ صرف رسمی تھا جس کے فورا بعد فلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس نے اسماعیل ہنیہ کو دوبارہ اپنی کابینہ تشکیل دینے کی دعوت دی جس میں حماس اور صدر محمود عباس کی فتح تحریک کے وزراء شریک ہوں گے۔

اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا: ’برادر ہنیہ نے مجھے اپنی حکومت کا استعفیٰ سونپ دیا ہے اور میں نے انہیں نئی کابینہ تشکیل دینے کو کہا ہے۔‘ اسماعیل ہنیہ کی نئی کابینہ کی منظوری فلسطینی پارلیمان سے پانچ ہفتے کے اندر لازمی ہوگی۔ فلسطینی پارلیمان پر ابھی حماس کا کنٹرول ہے۔

مخلوط حکومت کے قیام کے لیے فلسطینی تنظیموں حماس اور الفتح کے درمیان سعودی عرب میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے پر فلسطینی انتظامیہ کے صدر اور الفتح کے رہنما محمود عباس اور حماس کے سیاسی شعبے کے رہنما خالد مشعل نے مکّہ میں دستخط کیے تھے۔

اس مفاہمت میں سعودی عرب کے حکمران شاہ عبداللہ نے دونوں تنظیموں کے رہنماؤں کو سعودی عرب آنے کی دعوت دی تھی۔ ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ نئی حکومت میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ حماس سے تعلق رکھنے والے اسماعیل ہنیہ کے پاس ہی رہے گا جبکہ کچھ اہم عہدے غیرجانبدار ارکان کو دیے جائیں گے۔

قومی حکومت کا معاہدہ
 مخلوط حکومت کے قیام کے لیے فلسطینی تنظیموں حماس اور الفتح کے درمیان سعودی عرب میں ایک معاہدہ ہوا تھا۔ اس معاہدے پر فلسطینی انتظامیہ کے صدر اور الفتح کے رہنما محمود عباس اور حماس کے سیاسی شعبے کے رہنما خالد مشعل نے مکّہ میں دستخط کیے تھے۔
امریکہ اور اسرائیل نے دونوں تنظیموں کے درمیان معاہدے پر محتاط رد عمل کا اظہار کیا تھا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے ان اطلاعات کی تصدیق یا تردید کرنے سے انکار کر دیا ہے کہ امریکہ نئی حکومت کا بھی بائیکاٹ جاری رکھے گا۔ لیکن ترجمان نے کہا کہ امریکہ صرف اس فلسطینی حکومت کے ساتھ کام کرے گا جو اسرائیل کے ساتھ معاہدوں کا پاس کرے گی۔

فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پہلے کے معاہدوں میں تشدد کی مذمت، اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرنا اور ماضی کے وعدوں پر عملدرآمد شامل ہے۔

حماس نے ابھی ان شرائط کو باقاعدہ تسلیم نہیں کیا ہے اور گزشتہ ہفتے مبہم انداز میں محض یہ کہا تھا کہ وہ ماضی کے معاہدوں کا احترام کرے گی۔

فلسطینی صدر محمود عباس اتوار کے روز امریکی وزیر خارجہ کوڈولیزا رائس سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں وہ انہیں رضامند کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ نئی حکومت کے ساتھ ملکر کام کریں۔

حماسحماس کیا ہے؟
فلسطینی انتخابات میں کامیاب حماس کیا ہے
محمود ظہرمحمود ظہر کون؟
حماس کی اس حالیہ کامیابی کے پیچھے کون ہے
 اسمٰعیل ہانیہاسمٰعیل ہانیہ پر دباؤ
اسرائیلی فوجی کا اغوا، فلسطین میں بحران
بحری جہاز’امریکی مشقیں‘
خلیج فارس میں مجوزہ امریکی جنگی مشقیں اشتعال انگیز ہیں: ایران
سیاست اور حقیقت
حماس کے ایک سال، فلسطینیوں کی زندگی
امریکہ کو ’پیشکش‘
’حزب اللہ کی مدد بند کرنے کی پیشکش کی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد