BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس رہنما محمود ظہر کون ہیں؟
محمود ظہر
محمود پیشے کے اعتبار سے سرجن ہیں
محمود ظہر نے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فلسطین کی شدت پسندتنظیم حماس کے اہم رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

وہ پیشے کے اعتبار سے سرجن ہیں اورغزہ کی ایک اسلامی یونیورسٹی میں میڈیسن پڑھاتے ہیں۔ انیس سو ستاسی میں انہوں نے شیخ یٰسین کی حماس کے بنیاد رکھنے میں مدد کی۔

دو ہزار چار میں اسرائیل کی جانب سے حماس کے دواہم رہنماؤں شیخ یاسین اور عبدالعزیز رنتیسی کے قتل کے بعد وہ حماس کی سرکردہ قیادت کے ایک رکن کے طور پر سامنےآئے۔

محمور ظہر کا شمار حماس کے نظریاتی رہنماؤں میں ہوتا ہے اور اسماعیل حانیا کی نسبت انہیں زیادہ سخت گیر رہنماگردانا جاتا ہے۔

اسماعیل حانیا نے اس ماہ پارلیمان کے لیے ہونے والے انتخابات میں حماس کے امیدواروں کے قائد کے طور پر کام کیا۔

محمود ظہر انیس سو پینتالیس میں پیداہوئے۔ ان کے والد فلسطینی جبکہ والدہ مصری ہیں۔ انہوں نے اپنی جوانی کا زیادہ وقت مصر میں گزارا اور قاہرہ کی عینشام یونی ورسٹی سے میڈیسن کی تعلیم حاصل کی۔

انیس سو اکہتر میں گریجویشن کرنے کے بعد ظاہر نے اپنے شعبے میں خصوصی مہارت حاصل کرنے کے لیے مزید پانچ سال قاہرہ کی اس یونیورسٹی میں گزارے۔

محمود ظہر
 محمود ظہر انیس سو پینتالیس میں پیداہوئے۔ ان کے والد فلسطینی جبکہ والدہ مصری ہیں

بعد ازاں وہ غزہ کی نئی بننے والی یونیوسرٹی کے شعبہ میڈیسن میں بطور لیکچرر کے فلسطین آئے۔ جہاں ان کے ساتھ رنتیسی بھی تھے۔ انہوں نے مصر کی سب سے پرانی اور بڑی اسلامی تنظیم اخوان المسلمین کی فلسطین میں قائم شاخ میں رکنیت اختیار کر لی۔

انیس سو ستاسی میں غزہ کی علاقے سے اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمتی تحریک شروع ہوئی جو بعد ازاں غرب اردن کے علاقے تک پھیل گئی۔یہ وہ دور تھا کہ جب غزہ میں فلسطینی اخوان المسلمین کے رہنماؤں نے اس وقت حماس تشکیل دینے کا سوچا۔

انیس سو اٹھاسی میں حماس کے منشور کی اشاعت ہوئی جس میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کیاگیاتھا اور فلسطین میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کی بات کی گئی تھی۔

اسرائیلی حکام نے اس تنظیم کے بننے نے فورا بعد ہی اس پر پابندی لگا دی۔

انیس سو اٹھاسی میں شیخ یٰسین کی گرفتاری کے بعد محمود ظہر اور رنتسی نے حماس کی قیادت سنبھال لی۔

محمود ظہر یاسر عرفات کی فلسطین لبریشن آرگنائزیشن میں حماس کے ایک نمائندے کے طور پر بھی سامنے آئے۔

شیخ یٰسین
محمود ظہر شیخ یٰسین کے ذاتی معالج تھے

دسمبر انیس سو بانوے میں محمود ظہر ان کے بھائی اور رتنسی سمیت چارسو اسلامی شدت پسندوں کو اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم نے لبنان بدر کردیا۔

ان کارکنوں نے مرج الظہور میں دوسال گزارے ۔ اس دوران حماس کو ذرائع ابلاغ کی نمایاں اہمیت حاصل ہوئی اور اس تنظیم کو دنیا بھر میں پہچانا جانے لگا۔

محمود ظہر اور رنتیسی کو ایک سال بعد غزہ آنے کی اجازت دے دی گئی۔

غزہ آنے کے بعد محمود ظہر کا فلسطینی حکام سے تنازعہ ہوا۔ فلسطینی سکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کر لیا اور ایک موقع پر انہوں نے سات ماہ فلسطینی جیل میں گزارے۔

دوہزار کے دوران فلسطینی آبادی میں حماس کی مقبولیت اس وقت بڑھی جب تنظیم کے شدت پسند ونگ ازیدان القاسمی بریگیڈ نے خوکش بم حملوں کے ذریعے اسرائیلی شہریوں کو نشانہ بنانے کی مہم شروع کی۔

اس کے جواب میں اسرائیل کی فوج نے حماس کے شدت پسند اور سیاسی رہنماؤں کو نشانہ بنایا۔

دو ہزار تین میں اسرائیل نےغزہ میں محمود ظہر کے گھر پر بم برسا کر اسے مکمل تباہ کردیا۔ اس حملے میں ظہر بچ گئے لیکن ان کا پچیس سالہ بیٹا خالد اور باڈی گارڈ ہلاک ہوگئے۔

یکے بعد دیگرے حماس کے رہنماؤں شیخ یٰسین اور رنتیسی کے قتل کے بعد اسرائیل کی جانب سے حملہ کرنے کے خدشے سے پیش نظر حماس کے نئےجانشین کا نام خفیہ رکھا گیا تاہم فلسطین میں بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ غزہ میں حماس کے نئے جانشین محمود ظہر، اسماعیل حانیا اور سید الصیام ہیں۔

دریں اثناء محمود ظہر نے حماس کو فلسطینی سیاسی منظر نامے میں قابل قبول بنانے کے لیےکام شروع کردیا۔

رنتسی
انیس سو بانوے میں رنتیسی کو لبنان بدر کر دیا گیا

تنظیم نے اسرائیل کے ساتھ غیر رسمی جنگ بندی پر رضا مندی ظاہر کی۔ اس صلح کا آغاز فروری دوہزار پانچ میں ہوا اور جنگ بندی کے فوری بعد حماس نے پہلی مرتبہ انتخابات میں حصہ لیا۔

اگرچہ عالمی برداری بارہا حماس سے پر تشدد کارروائیاں ختم کرنے کا کہہ چکی ہے لیکن محمود ظہر کا اصرار ہے کہ حماس کو اسرائیلی حملوں کے جواب میں مزاحمت کا حق ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ’ہم دہشت گردی یا تشدد کا کھیل نہیں کھیل رہے ہیں۔ ہم اسرائیلی قبضے کے تحت زندگی گزار رہے ہیں‘۔

’فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی پر تشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ ان کا قتل عام ہو رہا ہے انہیں قید کیا جار ہا ہے ان کے گھر مسمار کیے جا رہے ہیں اور اس ساری کارروائیوں کو روکنے کے لیے یہ سب ہم ذاتی تحفظ کے لیے کر رہے ہیں اس میں ہتھیار اٹھانا بھی شامل ہے‘۔ اس کے ساتھ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی تیسرے فریق کی موجودگی میں اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں۔

خالد میشاللڑائی کی تیاریاں
ہم سیاسی جمود کا شکار ہو گئے ہیں
حماس حماس کمانڈر بےنقاب
حماس کے عسکری رہنماؤں کی تفصیلات
حماسحماس کیا ہے؟
فلسطینی انتخابات میں کامیاب حماس کیا ہے
اسی بارے میں
حماس انتخابات لڑےگی
12 March, 2005 | آس پاس
حماس کا نیا ٹی وی چینل
10 January, 2006 | آس پاس
حماس کیا ہے؟
26 January, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد