BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 January, 2007, 13:15 GMT 18:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حماس: سیاست اور زمینی حقیقت

محمود عباس متحدہ قومی حکومت بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں
ایک سال قبل مقبوضہ غرب اردن میں فلسطینی الیکشن سینٹر سے جب انتخابات کے نتائج آنا شروع ہوئے تو حماس اور الفتح کے اہلکاروں کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ حماس سرفہرست تھی۔

اور یہ بتانا مشکل تھا کہ کون زیادہ محو حیرت تھا: حماس کے کارکن یا الفتح کے۔ حماس کے لوگوں کو اچھی کارکردگی کا اندازہ تھا لیکن ان کا خیال تھا کہ وہ اپوزیشن میں رہیں گے، انہیں امید نہیں تھی کہ وہ پارلیمانی انتخاب جیت جائیں گے اور فلسطینی انتظامیہ پر ان کا کنٹرول ہوگا۔

الفتح کو شکست کی امید نہیں تھی۔ دونوں جماعتوں کو انتخابات کے نتائج سمجھنے میں مہینوں لگے۔ حماس نے حکومت سازی کے لیے انتخاب نہیں جیتا تھا، کیوں کہ فلسطین ایک ریاست نہیں ہے۔ جس خطے کو وہ ریاست کا درجہ دلانا چاہتی ہے وہ اسرائیلی فوج کے قبضے میں ہے۔

انیس سو نوے کے عشرے کے امن عمل کا جو کہ اب ناکام ہوگیا ہے، ایک اثر یہ ہوا کہ اسرائیل فلسطینیوں کو اپنی زندگی کے کچھ شعبوں جیسے پولیس، صحت اور تعلیمی نظام میں انتظامی امور سنبھالنے کی اجازت دیتا ہے۔

چونکہ فلسطینی الفتح کی برسوں کی کرپشن اور بدانتظامیوں سے پریشان تھے اور اسرائیل کی جانب اس کی پالیسیوں کو کامیاب نہیں سمجھتے تھے، اس لیے انہوں نے حماس کے حق میں ووٹ دے دیا۔

حماس کے رہنماؤں کا موقف
 حماس نے اسرائیل کی حقیقت کو تسلیم کرنے، تشدد کا راستہ ترک کرنے اور الفتح کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاہدوں کو تسلیم کرنے کے بیرونی دنیا کے الٹیمیٹم کو ٹھکرا دیا۔ لہذا اسرائیل اور بڑے ممالک نے فلسطینیوں کو وہ پیسے دینا بند کردیے جو 1990 کے عشرے کے امن کے عمل کا نتیجہ تھے۔
الفتح اور اس کے رہنما محمود عباس نے، جو اب بھی فلسطینیوں کے منتخب صدر ہیں، اسرائیل کو تسلیم کرلیا ہے اور ایک فلسطینی ریاست کے قیام پر یقین رکھتے ہیں جس کے ساتھ اسرائیل ایک پڑوسی ملک کی حیثیت سے وجود میں رہے گا۔ فلسطینی بھی کچھ حقیقت پسندانہ رویہ رکھتے ہیں۔

لیکن ایک سال قبل جب فلسطینی ووٹ دینے گئے تو ان پر واضح تھا کہ 1990 کے عشرے کی اعتدال پسندانہ سیاست انہیں آزادی کی جانب لانے میں کامیاب نہیں رہی۔ وہ سن 2000 میں شروع ہونے والی مسلح تحریک مزاحمت سے بھی اُوب گئے تھے۔

فلسطینی عوام الفتح کو ایک چانٹا لگانا چاہتے تھے، اور اسرائیل کو ایک پیغام بھیجنا چاہتے تھے کہ وہ ان کے ساتھ ایسے وقت تعاون نہیں جاری رکھ سکتے جب وہ غزہ کو دنیا کا سب سے بڑا جیل بناکر رکھیں اور غرب اردن میں یہودی بستیاں بساکر اسرائیلی قبضے میں توسیع کرتے رہیں۔

فلسطینیوں کو بھی اندازہ تو رہا ہوگا کہ حماس کو ووٹ دینا ایک پرخطر راستے پر چلنے کے مترادف ہے۔

ان کے اندر ہر طرف مایوسی تھی، شاید خودکش رجحان بھی۔ اور جہاں انہیں معلوم تھا کہ حماس کی کامیابی اسرائیل قبول نہیں کرےگا، وہیں انہیں یقین تھا کہ جمہوری انتخابات کے نتائج کو باقی دنیا میں سراہا جائےگا۔

امریکہ اور یورپ نے حماس کی انتظامیہ کو امداد بند کردی
امریکی اہلکار عربوں میں زوال، کرپشن اور پسماندگی کے حل کے لیے جمہوریت کی بات تو کر ہی رہے تھے۔ تاہم امریکہ، یورپی یونین اور روس کی جانب سے یہ پیغام بھی تھا کہ فلسطینی جس کو چاہیں ووٹ دے سکتے ہیں لیکن اگر انتخابی فاتح انہیں قبول نہیں ہوگا تو ان کے لیے اس کے ساتھ تعلقات رکھنا لازمی بھی نہیں۔

گزشتہ ایک سال فلسطینیوں کے لیے ایک پرخطر سال ثابت ہوا ہے۔

حماس نے اسرائیل کی حقیقت کو تسلیم کرنے، تشدد کا راستہ ترک کرنے اور الفتح کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاہدوں کو تسلیم کرنے کے بیرونی دنیا کے الٹیمیٹم کو ٹھکرا دیا۔ لہذا اسرائیل اور بڑے ممالک نے فلسطینیوں کو وہ پیسے دینا بند کردیے جو 1990 کے عشرے کے امن کے عمل کا نتیجہ تھے۔

جب حماس نے انتخاب جیتا اس وقت فلسطینی انتظامیہ مالی مشکلات کا شکار تھی جو کہ خراب تر ہوتی گئی۔ فلسطینی انتظامیہ کے ملازمین جیسے ڈاکٹروں اور ٹیچروں کو تنخواہیں نہیں ملیں، ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی رک گئی۔

جب اسرائیل کے سرحدی شہر سیدروت پر راکٹ داغے جانے لگے اور ایک کارروائی کے دوران ایک اسرائیلی فوجی کو قبضے میں لے لیا گیا تو اسرائیلی فوج نے غزہ میں ایک فوجی آپریشن شروع کردیا جو کہ سال بھر تک جاری رہی۔

سن 2006 میں اقوام متحدہ نے ایک اندازہ لگایا کہ مقبوضہ علاقوں میں 876 فلسطینی ہلاک ہوئے جبکہ چار ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ دوسری جانب پچیس اسرائیلی ہلاک ہوئے 377 اور زخمی۔

حماس دور تک نظر رکھتی ہے
 لیکن حماس دور تک نظر رکھتی ہے۔ اس کو یقین ہے کہ وقت اور تاریخ اس کے ساتھ ہیں اور یہ کہ مشرق وسطیٰ کا مستقبل اسلام پسندوں کے ہاتھوں میں ہے۔ حماس یہ سمجھتی ہے کہ گزشتہ پچاس سالوں کی الفتح کی سیکولر قومیت فلسطینیوں کو آزادی دلانے میں ناکام رہی ہے۔
یاسر عرفات کی جماعت الفتح اقتدار کی عادی ہوچکی تھی، نئے حالات اس کے لیے مشکل ثابت ہورہے تھے۔

فلسطینی سکیورٹی فورسز کے بیشتر دھڑوں پر الفتح کا کنٹرول اب بھی باقی ہے۔ انتخابات سے قبل بھی فلسطینی معاشرہ مستقبل کے بارے میں مستقل ناامیدی سے کمزور ہوچکا تھا اور اسرائیل کے فوجی قبضے کے تحت بکھر رہا تھا۔

اسرائیل نے سن 2005 میں غزہ سے آبادکاروں کو نکال لیا لیکن ابھی بھی وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت غزہ پر ایک قابض طاقت ہے۔

اقتدار کھونے کا الفتح کا افسوس، حماس کے حامیوں کے اندر اس بات پر غصہ کہ ان کی انتخابی کامیابی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور اسرائیلیوں کی جانب سے جاری رہنے والے دباؤ نے مزید تشدد کو جنم دیا۔

حماس اور الفتح کے درمیان جاری رہنے والی کشیدگی اور فائرنگ کے واقعات میں کم سے کم ساٹھ فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ اگر ایک گولی بھی کسی اہم رہنما کو لگ جاتی تو فلسطینیوں کے اندر خانہ جنگی شروع ہوجاتی، جس کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

امریکہ کی جانب سے اب تک کی سب سے اہم مداخلت یہ رہی ہے کہ اس نے محمود عباس اور ان کے حامیوں کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی شروع کردی ہے۔ محمود عباس حماس سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کے ساتھ ایک متحدہ قومی حکومت کے لیے بات چیت اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔

مغربی ممالک میں فلسطینی صدر کے حامی یہ امید کررہے ہیں کہ وہ ایک ایسی نئی حکومت قائم کرسکیں جو اسرائیل کے وجود سے متعلق کچھ الفاظ کی تشکیل پر متفق ہوسکے اور بیرونی امداد پھر سے فلسطینیوں کو جاری کی جاسکے جو حماس کی انتظامیہ کو کمزور کرنے کے لیے روک دی گئی ہے۔ لیکن ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا، ورنہ اب تک یہ ہوگیا ہوتا۔

فلسطینیوں کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ سڑکوں پر جاری تشدد ختم ہو۔

حماس اور الفتح کے کارکن آپس میں لڑتے رہے ہیں
کچھ فلسطینی حماس کی کارکردگی سے مایوس بھی ہیں۔ رائے شماری کے حالیہ جائزوں سے جن پر ہمیشہ یقین کرنا مشکل ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ آج اگر انتخابات منعقد ہوں تو محمود عباس کی الفتح کامیاب ہوجائے گی۔

آئندہ ایک سال حوصلہ افزا نہیں ہے۔ یہ پورا علاقہ ہی کئی نسلوں کی سب سے وسیع پسماندگی میں مبتلا ہے۔ کچھ لوگوں کی نظر میں یہ موجودہ دور کی سب سے بڑی پسماندگی ہے۔

حماس اقتدار میں رہنے کے لیے جو کچھ بھی ممکن ہے وہ کرے گی۔ اس کے خلاف پابندیاں اب بھی عائد ہیں لیکن مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی صدر کے دفتر کے ذریعے پیسے اور امداد آنا شروع ہوگئے ہیں۔

لیکن حماس دور تک نظر رکھتی ہے۔ اس کو یقین ہے کہ وقت اور تاریخ اس کے ساتھ ہیں اور یہ کہ مشرق وسطیٰ کا مستقبل اسلام پسندوں کے ہاتھوں میں ہے۔ حماس یہ سمجھتی ہے کہ گزشتہ پچاس سالوں کی الفتح کی سیکولر قومیت فلسطینیوں کو آزادی دلانے میں ناکام رہی ہے۔

تمام دباؤ کے باوجود حماس جہاں ایک سیاسی راستے پر چل رہی ہے وہیں اس نے مسلح جدوجہد کا راستہ بھی اختیار کیا ہوا ہے جسے ہر فلسطینی جائز سمجھتا ہے۔

حماس کے رہنما، جو غرب اردن کی اسرائیلی جیلوں میں نہیں ہیں، کچھ اعتدال پسندانہ تصور کیے جانے والے بیانات بھی دیتے رہتے ہیں جس کے تحت غرب اردن، غزہ اور مشرقی یروشلم میں فلسطینی ریاست کے قیام کے بدلے میں اسرائیل کو ’دیرپا فائربندی‘ کی پیشکش بھی کی جاتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مستقل جنگ کے بدلے سکون بہتر ہے کیوں کہ باقی فیصلے اگلی نسلوں کو کرنے ہیں۔

اسرائیل کے حامیوں کا موقف
 وہ سوال کرتے ہیں کہ اس بات کی کیا گارنٹی کہ اگر اسرائیل کے ساتھ فائربندی ہوجائے تو حماس اس وقفے کو ہتھیار اکٹھا کرنے کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔ اور حماس کے اس چارٹر سے کیا سمجھیں جسے مذہبی استعارات میں تحریر کیا گیا ہے اور اس کے تحت تمام فلسطینی خطے کو اسلام کے کنٹرول میں تصور کیا جاتا ہے جہاں اسرائیل کے لیے جگہ نہیں۔
اسرائیل پورا غرب اردن چھوڑنے اور مشرقی یروشلم میں فلسطینی دارالحکومت کے قیام کے لیے تیار نہیں ہے۔ اگر وہ تیار بھی ہوتا تو بیشتر اسرائیلیوں اور بیرون ملک ان کےدوستوں کے پاس ایسے الفاظ کے لیے وقت نہیں ہے جنہیں وہ دہشت گرد تنظیموں کے ترجمانوں کی چالاکی سمجھتے ہیں۔

وہ سوال کرتے ہیں کہ اس بات کی کیا گارنٹی کہ اگر اسرائیل کے ساتھ فائربندی ہوجائے تو حماس اس وقفے کو ہتھیار اکٹھا کرنے کے لیے استعمال نہیں کرے گی۔ اور حماس کے اس چارٹر سے کیا سمجھیں جسے مذہبی استعارات میں تحریر کیا گیا ہے اور اس کے تحت تمام فلسطینی خطے کو اسلام کے کنٹرول میں تصور کیا جاتا ہے جہاں اسرائیل کے لیے جگہ نہیں۔

تو حماس کو بنیاد کیوں فراہم کریں کہ اسے اسرائیل کو تباہ کرنے کا ایک موقع مل جائے؟ حماس کو ایک ریاست قائم کرکے ’فتح‘ کیوں دلا دیں جبکہ اس نے یہودیوں کو ہلاک نہ کرنے کے صرف زبانی بیان سے زیادہ کچھ نہیں کیا؟

اسرائیلیوں اور بیرون ملک ان کےدوستوں کے یہ سوالات سمجھ میں آنے والے ہیں۔ گزشتہ گیارہ برسوں کے دوران حماس نے سینکڑوں اسرائیلی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔

لیکن اگر حماس تبدیل ہورہی ہے، مسلح جد و جہد کی آسانیوں اور سیاست کی پیچیدگیوں کو اپنانے کی کوشش کررہی ہے، تو کیا کریں؟

ایسا ضرور دکھائی دیتا ہے کہ حماس کے کچھ رہنما اسرائیل کے ساتھ ساتھ رہنے کے راستے کی جانب چل رہے ہیں، اسی راستے پر جس پر 1980 اور 1990 کے عشروں کے درمیان الفتح اور فلسطینی تنظیمی آزادی یعنی پی ایل او کے رہنما چل رہے تھے۔

مغربی ممالک کے رہنماؤں نے اب تک یہ جاننے کی کوشش نہیں کی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ساتھ رہنے کے بارے میں حماس کے رہنماؤں کے بیانات کتنے سنجیدہ ہیں۔ لیکن مغربی ملکوں کے ان رہنماؤں میں سے کوئی ایک بھی، مثال کے طور پر امریکہ کا اگلا صدر، اگرمشرق وسطیٰ کے اس سیاسی تعطل کو توڑنا چاہے تو حماس کی اسی سنجیدگی کو سمجھنا ہی ایک راستہ ہے۔

یولی تمیر’اسرائیلی نصاب‘
سابقہ سرحدیں دکھائے جانے کے امکان پر تنازعہ
فلسطینغائبانہ کنٹرول
’ فلسطین پر اسرائیل کا کنٹرول پہلے سے زیادہ ہے‘
حماسحماس کیا ہے؟
فلسطینی انتخابات میں کامیاب حماس کیا ہے
محمود ظہرمحمود ظہر کون؟
حماس کی اس حالیہ کامیابی کے پیچھے کون ہے
 اسمٰعیل ہانیہاسمٰعیل ہانیہ پر دباؤ
اسرائیلی فوجی کا اغوا، فلسطین میں بحران
شیرون فلسطینیوں کا ردعمل
اسرائیلی وزیراعظم کی بیماری پرملاجلا ردعمل
ایہود اولمرتلبنان جنگ کے بعد
اسرائیلی وزیراعظم کی مشکلات میں اضافہ
اسی بارے میں
حماس کا فتح پر الزام
15 December, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد