BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 January, 2007, 13:03 GMT 18:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غزہ میں اسرائیل کا ’غائبانہ ہاتھ‘
فلسطین
رپورٹ کے مطابق فسطینیوں کی زندگیوں پر اسرائیل کا کنٹرول پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیم کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق اگرچہ غزہ سے اسرائیلی فوجوں کو نکلے ہوئے ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے لیکن فلسطینیوں کی زندگیوں پر ان کا کنٹرول پہلے سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔

ان دنوں جب اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا جاری تھا، اسرائیلی رہنما ایریئل شیرون نے اقوام متحدہ میں اپنے خطاب کے دوران کہا تھا ’اب غزہ کی پٹی پر اسرائیل کا کنٹرول اور ذمہ داری ختم ہو گئی ہے‘۔

لیکن اس تنظیم نے اپنی مطالعاتی رپورٹ میں ایریئل شیرون کے اس دعوے کو چیلنج کیا ہے۔ اس تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد مقبوضہ علاقوں میں آباد فلسطینیوں کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرنا ہے ۔

اس تنظیم نے ایک سو صفحات پر مبنی تفصیلی رپورٹ میں کہا ہے کہ اسرائیل غزہ پر ایک ’غائبانہ ہاتھ‘ کے ذریعے اپنا کنٹرول جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان مقبوضہ علاقوں کی آبادی کی بہتری کے لیے کام کرنا اب بھی اسرائیل کی قانونی ذمہ داری ہے لیکن اس سلسلے میں کوئی کام نہیں کیا جا رہا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ’ غزہ کے رہائشی اپنی زندگیوں کے اہم پہلوؤں سے آگاہ ہیں جیسا کہ غزہ میں آنا اور جانا، دوائیات کی فراہمی، تیل اور دیگر بنیادی اشیاء صرف، اپنی فصلوں کو برآمد کے لیے مارکیٹ تک پہنچانا، بجلی کا استعمال، یہ سب اسرائیلی فوج کے فیصلوں کے مطابق ہوتا ہے‘۔

اس رپورٹ کا آغاز غزہ پر اسرائیلی فوج کے مسلسل ڈھکے چھپے دباؤ کے تذکرے سے شروع ہوتا ہے۔

نومبر میں ہونے والی فائر بندی سے قبل اسرائیلی فضائی حملوں اور فائرنگ کے باعث سینکڑوں فلسطینی ہلاک ہوئے اور یہ سب غزہ میں موجود اسلامی جہادی تنظیم کے ارکان سے اسرائیلی فوج کی لڑائی کے نتیجے میں ہوا۔

فائر بندی سے قبل غزہ پر کیے جانے والے اسرائیلی حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے

اس عرصہ کے دوران تقریبًا روزانہ غرب اردن کے قریب واقع اسرائیل کے جنوبی علاقوں پر میزائیل داغے اور اپنے ان حملوں کو جوابی کارروائی قرار دیا۔

لیکن یہ نئی رپورٹ غزہ پر اسرائیل کے جاری کنٹرول کی ایسی صورتوں پر روشنی ڈالتی ہے جو زیادہ واضح نہیں ہیں۔

اسرائیل نے غزہ کے بین الاقوامی ائیرپورٹ کو دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی۔ اسرائیل کی بحریہ ساحلی علاقوں پر اپنا گشت جاری رکھے ہوئے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے ایسا کرنے کا مقصد اسلحہ کی سمگلنگ کو روکنا ہے۔ اکثر و بیشتر فلسطینی مچھیروں کی کشتیوں کو اسرائیل کے مقرر کردہ زون سے باہر رہنے پر فاہرنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

سرحدوں پر اسرائیلی فوجی موجود نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود اسرائیل، یورپی یونین، فلسطینی اتھارٹی اور مصر کے درمیان معاہدے کے مطابق سرحد پار جانے کے لیے اسرائیل کا تعاون ضروری ہے۔ لیکن اکثر اسرائیل اس سلسلے میں تعاون کرنا بند کر دیتا ہے اور غزہ سے اسرائیل کے انخلا کے بعد تقریبًا چھ ماہ کے لیے سرحدیں بند رہیں۔

غزہ سے باہر جانے اور اندر آنے والی اشیاء پر اسرائیل کا مکمل کنٹرول ہے۔ کارنی کے مقام پر کارگو ٹرمینل اسرائیل اکثر بند کر دیتا ہے جس سے غزہ کی معیشت پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں۔

اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں سکیورٹی کے ضروری ہیں۔ دو سال قبل شدت پسندوں نے کارنی پر حملہ کیا تھا جس میں متعدد اسرائیلی ہلاک ہو گئے تھے۔ لیکن فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ سرحدیں بند کرنا اسرائیل کی حمکت عملی ہے جس کے ذریعے وہ فلسطینی معیشیت کو نقصان پہنچاتے ہیں تاکہ وہ غزہ پر اپنا دباؤ جاری رکھ سکیں۔

اس رپورٹ میں انتظامیہ پر اسرائیلی کے کنٹرول پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ فلسطینی آبادی کی ریجسٹری ابھی تک اسرائیل کے کنٹرول میں ہے۔ اس لیے وہ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون غزہ کا رہائشی بن سکتا ہے اور کس کو اس علاقے میں آنے جانے کی اجازت ہے۔

اسرائیل غزہ پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کے لیے غزہ کی معیشت کو نقصان پہچانے کی کوشش جاری رکھتا ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی لوگوں کی ریجسٹری پر پابندی ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کے پاس کوئی شناختی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل فلسطین کے ٹیکس کے نظام پر بھی کنٹرول رکھتا ہے۔ حماس کی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے اسرائیل نے ان لاکھوں ڈالروں کے ٹیکس کی ادائیگی روک رکھی ہے جو اس نے غزہ کو دینے ہیں۔

اس رپورٹ کا اختتام اس بات پر ہوتا ہے کہ اگرچہ اسرائیلی فوجی غزہ سے جا چکے ہیں لیکن غزہ میں اسرائیلی کردار کے پیش نظر اس پر لازمی ہے کہ وہ بین الاقوامی اور انسانی حقوق کے مطابق غزہ میں آنے جانے اور وہاں پر معاشی ترقی کے فروغ کی اجازت دے۔

اسرائیلی حکومت نے اس رپورٹ کو رد کیا ہے۔ رپورٹ کے جواب میں اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے’ ہم یہ کہیں گے کہ جب غزہ میں کوئی اسرائیلی پولیس، فوجی یا شہری موجود نہیں ہیں تو اس صورتحال میں قانونی طور پر یہ کہنا کہ غزہ پر ہمارا کنٹرول ہے دور کی کوڑی لانے کے مترادف ہے۔ اس رپورٹ کی بین الاقوامی قانون کے تحت کوئی اہمیت نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد