حماس، الفتح اہم ملاقات متوقع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کے دارالحکومت دمشق سے حماس اور الفتح کی قیادت کے درمیان ممکنہ ملاقات کے بارے میں متضاد اطلاعات کے بعد اب ایک اعلیٰ فلسطینی رہنما صائب اراکات نے کہا ہے کہ یہ ملاقات اب اتوار کو ہی ہوگی۔ اس سے قبل فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس اور حماس کے جلا وطن رہنما خالد مشعل کے درمیان سنیچر کے روز ملاقات نہیں ہو سکی تھی اور اب خیال تھا کہ یہ اتوار کو ہوگی۔ لیکن حماس کے ایک اعلیٰ رہنما موسیٰ ابو مرزوق نے بیان دیا تھا کہ مذاکرات نہیں ہوں گے۔ دمشق میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق لوگوں میں تاثر ہے کہ حماس اور الفتح کے درمیان اسرائیل پالیسی اور فلسطینی انتظامیہ میں سکیورٹی فورسز پر کنٹرول کے بارے میں اختلافات موجود ہیں۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ دونوں تنظیمیں ملاقات سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا چاہیں گی کہ مخلوط حکومت کے بارے میں معاہدے ہو جائے۔ حماس نے گزشتہ سال فلسطینی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے حکومت بنائی تھی۔ الفتح اور فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کا کہنا ہے کہ بہت سے ایسے معاملات ہیں جو ہم سب کو متاثر کرتے ہیں اور ’ہمیں بھائیوں سے‘ اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔ حماس کی انتخابات میں کامیابی کے بعد فلسطینی انتظامیہ کو ملنے والی بیرونی امداد روک دی گئی تھی جس سے فلسطینی معیشت متاثر ہوئی تھی۔ حماس کا کہنا ہے کہ ان کے ’لچکدار رویے‘ کے باوجود ’بیرونی عناصر‘ کی وجہ سے بحران ہوا ہے۔ محمود عباس نے وسط دسمبر میں کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو وہ نئے انتخابات کا اعلان کر دیں گے۔ حماس نے کہا تھا کہ ایسا کرنا بغاوت کے مترادف ہوگا۔ اس دوران حماس اور الفتح کے کارکنوں کے درمیان لڑائی میں تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں مسلح فورس دوگنا کریں گے: حماس07 January, 2007 | آس پاس کونڈولیزا رائس، اولمرت ملاقات15 January, 2007 | آس پاس امریکی منصوبے پر سعودی حمایت16 January, 2007 | آس پاس عباس کے قتل کی سازش کا الزام16 January, 2007 | آس پاس غزہ میں اسرائیل کا ’غائبانہ ہاتھ‘18 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||