امریکی منصوبے پر سعودی حمایت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سعودی عرب نے کہا ہے کہ عرب ممالک عراق کو مستحکم بنانے کے امریکی منصوبے کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم سعودی حکام کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کی کامیابی کا تمام تر انحصار عراقی عوام پر ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اپنے مشرق وسطٰی کے دورے کے سلسلے میں سعودی دارالحکومت ریاض پہنچی ہیں جہاں وہ عراق کے لیے امریکہ کی نئی حکمت عملی پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے کونڈولیزا رائس کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’ہم اس منصوبے کے مقاصد سے اتفاق کرتے ہیں‘۔ پیر کو کونڈولیزا رائس نے عراق میں مزید غیر ملکی فوج کی تعیناتی پر مصر کی حمایت حاصل کی تھی۔ امریکی وزیر خارجہ نے اردن، اسرائیل اور فلسطین کے سربراہان سے بھی ملاقاتیں کی ہیں اور امریکہ، اسرائیل اور فلسطین کے مابین سہ فریقی اجلاس کے منصوبے کا بھی اعلان کیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود نے کہا ’نئی حکمت عملی کے تحت متعین کردہ مقاصد سے ہم پوری طرح متفق ہیں اور ہمارے خیال میں اگر اس منصوبے کو کامیابی سے عملی جامہ پہنایا گیا تو اس سے عراق کے مسائل کا خاتمہ ہوجائے گا‘۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ منصوبے کی کامیابی کا سب سے زیادہ انحصار عراقی عوام کے رد عمل پر ہے۔ ’ہم لوگ فیصلے کرنے میں عراق کی مدد تو کرسکتے ہیں مگر حتمی نتائج کا دارومدار عراقیوں پر ہے‘۔
سعودی عرب کے شاہ عبداللہ سے ملاقات کے بعد کونڈولیزا رائس کا کہنا تھا کہ انہوں نے لبنان، عراق اور اسرائیل فلسطین معاملات پر بات چیت کی ہے۔ رائس کا کہنا تھا کہ ’مشرق وسطٰی میں یہ بہت آزمائشی وقت ہے اور اسی وقت کو ایک مثبت موقع بھی بنایا جاسکتا ہے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل فلسطین معاملے میں امریکہ اپنی مداخلت بڑھا دے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق پر نئی حکمت عملی کے معاملے میں سعودی عرب نے امریکہ کی بہت مدد کی ہے۔ فلسطین، اسرائیل اور امریکہ کے مجوزہ سہ فریقی اجلاس کے بارے میں کونڈولیزا رائس کا کہنا تھا کہ یہ مذاکرات تین یا چار ہفتے جاری رہیں گے اور ان کا مقصد 2003 میں تجویز کیے گئے روڈ میپ کو نافذ العمل کرنےمیں تیزی لانا ہے۔ مصر کے دورے میں مصری وزیر خارجہ احمد عبدل غیث نے امریکی وزیر خارجہ کو بتایا کہ عراق کے بارے میں حالیہ امریکی منصوبے پر ان کی حکومت پوری طرح سے امریکہ کے ساتھ ہے۔ مشرق وسطٰی میں بی بی سی کے نامہ نگار ایئن پینل کے مطابق خطے میں عراق میں امریکی کردار پر کڑی تنقید کے باوجود کئی ممالک تسلیم کرتے ہیں کہ عراق میں ’ناکامی‘ کے کتنے خطرناک نتائج ہوسکتے ہیں۔ | اسی بارے میں عراق پالیسی: ’بش کا نیا نسخہ‘10 January, 2007 | آس پاس عراق میں امریکی فوج میں اضافہ 10 January, 2007 | آس پاس بش کی نئی پالیسی پر عالمی ردعمل 11 January, 2007 | آس پاس کونڈالیزا رائس اسرائیل پہنچ گئیں 13 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||