BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 January, 2007, 08:02 GMT 13:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کونڈولیزا رائس، اولمرت ملاقات
کونڈولیزا رائس
کونڈولیزا رائس کی ملاقاتوں کے حوالے سے کسی بڑی کامیابی کی توقع نہیں کی جا رہی
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اپنے موجودہ دورہِ مشرق وسطیٰ کے تیسرے روز پیر کو یروشلم میں اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرت سے ملاقات کر رہی ہیں۔

عراق کے حوالے سے ’نئی امریکی پالیسی‘ کے اعلان کے فوراً بعد کونڈولیزا رائس مشرق وسطیٰ کے سات روزہ دورے پر نکلی ہوئی ہیں، جس کے ابتدائی مرحلے میں وہ فلسطینی اور اسرائیلی قیادت سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔

ایہود اولمرت کے ساتھ ملاقات سے پہلے وہ اسرائیلی وزیر خارجہ ، فلسطینی صدر محمود عباس اور اردن کے شاہ عبداللہ سے ملاقاتیں کر چکی ہیں۔

اسرائیل میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کونڈولیزا رائس اور اسرائیلی وزیر اعظم کے درمیان ملاقات میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ حماس کے ساتھ جاری اقتدار کی کشمکش میں فلسطینی صدر محمود عباس کو کیسے مضبوط کیا جائے۔

نامہ نگار کے مطابق مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اسرائیلی اور فلسطینی قیادت سے کونڈولیزا رائس کی ملاقاتوں کے حوالے سے کسی بڑی کامیابی کی توقع نہیں کی جا رہی۔

 ایران کا بڑھتا ہوا اثر و نفوذ بھی ایہود اولمرت اور کونڈولیزا رائس کے درمیان ہونے والی ملاقات میں زیر بحث آنے کا امکان ہے

شاہ عبداللہ اور فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقاتوں کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں کہا ’عرب رہنماؤں کی طرف سے اسرائیل فلسطین تنازعہ کے حل کے لیے امریکہ کو بھرپور کردار ادا کرنے کو کہا گیا ہے‘۔

اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے فعال کردار ادا نہ کیا تو علاقے میں پر تشدد کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان ہے۔

نامہ نگار کے مطابق علاقے میں ایران کا بڑھتا ہوا اثر و نفوذ بھی ایہود اولمرت اور کونڈولیزا رائس کے درمیان ہونے والی ملاقات میں زیر بحث آنے کا امکان ہے۔

ایران کے نیوکلیئر اثاثوں پر اسرائیل کے ممکنہ حملے کے بارے میں کافی قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے کونڈولیزا رائس کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں اس مسئلے کے حل کے لیے ابھی سفارتی کوششوں کی گنجائش موجود ہے۔ ’لیکن مسئلے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ لوگ فوجی کارروائی کے بارے میں قیاس آرائی کر رہے ہیں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد