BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 14 January, 2007, 07:57 GMT 12:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قیامِ امن کے لیے ’بارآور‘ مذاکرات
کونڈا لیزا رائس
امریکی وزیرِ خارجہ سات روزہ دورے پر مشرقِ وسطٰی میں ہیں
امریکی وزیرِ خارجہ کونڈو لیزا رائس نے رملہ میں فلسطین کے صدر محمود عباس سے مشرقِ وسطٰی میں قیامِ امن کے حوالے سے ’بار آور‘ مذاکرات کیے ہیں۔

فلسطینی صدر سے ملاقات کے بعد کونڈو لیزا رائس کا کہنا تھا کہ امریکہ اس خطے میں قیامِ امن کے ’روڈ میپ‘ پر عملدرآمد اور ایک فلسطینی ریاست کی تشکیل کا عزم رکھتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ بات جان گئی ہیں کہ عرب رہنما چاہتے ہیں کہ امریکہ فسلطین اور اسرائیل کے تنازعے کے حل میں مزید اہم کردار ادا کرے۔

محمود عباس سے ملاقات سے قبل کونڈو لیزا رائس نے کہا تھا کہ مشرقِ وسطٰی میں امن عمل کے احیاء کے لیے ضروری ہے کہ اس عمل میں شریک طاقتیں اپنی ذمہ داریوں سے تخلیقی اور پرعزم طریقے سے عہدہ برا ہوں۔

سنیچر کو کونڈو لیزا رائس نے اسرائیلی رہنماؤں سے ملاقات کی تھی اور کہا تھا کہ فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ ختم کرنے کے لیے ایک ’تخلیقی حل‘ درکار ہے۔

ادھر سنیچر کو حماس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ کونڈو لیزا رائس کا دورہ علاقے میں مزید تفرقہ اور انتشار کا سبب بنے گا اور ’اسرائیل اور امریکہ فلسطین میں خانہ جنگی کرانا چاہتے ہیں‘۔

کونڈو لیزا رائس حالیہ دورے میں حماس کے کسی رہنما سے ملاقات نہںی رک رہی ہیں۔

اپنے دورے کے آغاز سے قبل بھی امریکی وزیرِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ مشرقِ وسطٰی کسی خاص منصوبے کے ساتھ نہیں جا رہیں تاہم وہ اپنے دورے میں خطے میں قیامِ امن کے امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے بارے میں بات چیت میں تیزی لانے پر بات کریں گی۔

امریکی وزیرِ خارجہ اسرائیلی وزیراعظم سے پیر کو ملیں گی

کونڈو لیزا رائس اپنے دورۂ مشرق وسطٰی میں اسرائیل اور فلسطینی علاقے کے علاوہ مصر، اردن، کویت اور سعودی عرب بھی جائیں گی۔

یروشلم میں بی بی سی کے نمائندے کٹیا ایڈلر کے مطابق عرب حکومتوں نے امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ اگر وہ عراق میں ان کی حمایت چاہتا ہے تو اسے اسرائیل، فلسطین معاملے میں مزید دلچسپی لینا ہوگی۔

یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ کونڈو لیزا رائس اپنے دورۂ مشرق وسطیٰ میں صدر بش کی ’نئی عراق پالیسی‘ کے حوالے سے خطے میں رائے ہموار کرنے کی کوشش کریں گی۔نئی عراق پالیسی کے حوالے سے کونڈو لیزا رائس کا کہنا ہے کہ امریکہ ایران یا شام کو عراق میں کوئی ایسی سرگرمی جاری رکھنے نہیں دےگا جس کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کو خطرہ لاحق ہو۔

اسماعیل ہنیہ قومی اتحاد کی اپیل
فلسطینیوں سے اسماعیل ہنیہ کی اپیل
عراق میں امریکی فوجیعراق میں نیامنصوبہ
صدر بش کی نئی پالیسی پرعالمی رد عمل
صدر جارج بشسب سے بڑا دردِ سر
عراق میں کامیابی کے لیے بش کا نیا نسخہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد