BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 January, 2007, 15:48 GMT 20:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’عراقی وزیر اعظم رعایتی وقت پرہیں‘
کونڈو لیزا رائس
ایران اور شام کو عراق میں مداخلت سے روکیں گے: امریکی وزیر خارجہ
امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے کہا کہ عراقی وزیر اعظم نوری المالکی رعایتی وقت پر حکومت میں ہیں اور اگر وہ عراقی سکیورٹی کے حوالے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرسکے تو امریکی عوام کا اعتماد کھو دیں گے۔

سینٹ کی کمیٹی کے سامنے عراق کے بارے میں بش انتظامیہ کی نئی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کونڈولیزا رائس نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ نوری المالکی عراقی عوام کو تحفظ دینے میں کامیاب رہیں گے۔

ادھر ڈیموکریٹ پارٹی عراق کی بارے میں امریکی پالیسی پر تنقید جاری رکھی ہوئی ہے اور عراق میں مزید فوج بھیجنے کے فیصلے کو بہت بڑی غلطی سے تعبیر کیا ہے۔

سینٹ کمیٹی کی سماعت کے دوران ایک شخص نے وہاں پہنچ کر جنگ کے نعرے لگائے۔ احتجاج کرنے والا شخص کہہ رہا تھا’تمام جھوٹ۔۔اور جھوٹ۔۔ ابھی بھی جھوٹ۔۔ جھوٹ بند کرو۔۔ جنگ بند کرو۔‘

سماعت کے دوران احتجاج
 احتجاج کرنے والا شخص کہہ رہا تھا’تمام جھوٹ۔۔اور جھوٹ۔۔ ابھی بھی جھوٹ۔۔ جھوٹ بند کرو۔۔ جنگ بند کرو۔
احتجاج کرنے والے کا نعرے

کمیٹی کی سماعت تھوڑی دیر کے رک گئی اور احتجاج کرنے والے پولیس سیکورٹی اہلکار گھسیٹ کر باہر لے گئے۔

امریکہ وزیر خارجہ نے عراق کے پڑوسی ملکوں کو خبردار کیا کہ جو ملک بھی عراق میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کرےگا امریکہ اس کے خلاف سخت کاروائی کرے گا۔‘

کونڈولیزا رائس کا یہ بیان عراق میں ایرانی سفارت خانے پر امریکی فوجیوں کی طرف سے حملے کے چند گھنٹے بعد آیا ہے۔ اس کارروائی کے بعد ایرانی سفارت خانے کے بعض اہلکاروں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

کونڈو لیزا رائس نے کہا: ’امریکہ پورے خطے میں نہ صرف اپنے مفاد کا دفاع کرے گا بلکہ اپنے اتحادیوں اور دوستوں کے مفاد کا بھی خیال رکھےگا۔‘

گزشتہ روز صدر بش نے عراق میں اپنی نئی پالیسیوں کا اعلان کرتے ہوئے ایران اور شام کے خلاف سخت کارروائی کرنے کی بات کی تھی۔ امریکہ عراق میں عدم استحکام کے لیے ایران اور سیریا پر الزام عائد کرتا رہا ہے۔

محترمہ رائس نے کہا ہے کہ اگر ایران یورینیم کی افزدگی اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کی کوششیں ترک کردے تو وہ ایرانی رہنماؤں سے کہیں بھی ملاقات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

’آج میں اپنی وہی پیشکش پھر دہراتی ہوں جو پہلے کئی بار کر چکی ہوں، اگر ایران یورینیم کی افزدگی روک دے جو صرف امریکہ کا نہیں بلکہ بین الاقوامی برادری کا مطالبہ ہے توامریکہ اپنی 27 برس پرانی پالیسی پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔‘

دریں اثناء وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ کسی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ امریکی افواج کو عراق میں کتنی مدت تک رہنا پڑیگا۔

انہوں کہا کہ وہ اگلے پانچ سالوں کے لیے بانوے ہزار مزید امریکی فوجی بھرتی کرنے کے لیے بش انتظامیہ کو مشورہ دیں گے۔

جمعرات کو عراق کے شہر اربیل میں موجود ایرانی قونصلیٹ پر امریکی فوج نے حملہ کرکے وہاں پر کام کرنے والے پانچ افراد کو گرفتار کیا تھا۔

خبروں کے مطابق امریکی فوجیوں نےاس عمارت پر دن کے تین بجے حملہ کیا تھا اور وہاں پر موجود کمپیوٹر اور دیگر دستاویزات بھی اپنے ساتھ لے گئے۔

امریکی فوج نے اس حملے کے حوالے سے ابھی تک کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان پہلے ہی سے شدید کشیدگی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد