BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 January, 2007, 12:32 GMT 17:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مخالف دھڑے جھڑپیں ختم کر دیں
فلسطین
پچھلے چند ماہ کے دوران فلسطین میں مخالف دھڑوں کے درمیان تعلقات مزید خراب ہوئے ہیں
فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنی فتح اور حماس کے مسلح افراد پر زور ڈالیں گے کہ وہ غزہ کی سڑکوں ہٹ جائیں۔

اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپیل کرتے ہیں کہ سب پرامن رہیں اور اب بات چیت کے ذریعے قومی اتحاد پر مبنی حکومت تشکیل دی جائے۔

محمود عباس اور اسماعیل ھنیہ کے درمیان یہ ملاقات دو ماہ کے بعد جمعرات کو ہوئی ہے۔ ملاقات سے قبل شمالی غزہ میں مختلف دھڑوں کے درمیان جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان جھڑپوں کی وجہ سے مخالف فرقوں کے درمیان دو ہفتے قبل ہونے والی فائر بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔

دریں اثناء خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ محمود عباس کو آٹھ کروڑ چونسٹھ لاکھ ڈالر کے ساتھ امن فوج بھی دینے کا ارادہ کر رہی ہے۔

رائٹرز نے امریکی حکومت کے دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پیسوں سے ’فلسطینی اتھارٹی کے صدر کو مدد ملے گی کہ وہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدے پورے کر سکیں اور یوں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر سکیں اور غرب اردن اور غزہ میں قانون نافذ کرتے ہوئے امن و امان قائم کر سکیں‘۔

اسماعیل ھنیہ نے اپنا بیرونی دورہ مختصر کر کے محمود عباس سے غزہ میں جمعرات کو ملاقات کی۔ انہوں نے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطین میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں کی تحقیقات کروائیں گے۔ تاہم محمود عباس کی طرف سے اس ملاقات کے بعد کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد