مخالف دھڑے جھڑپیں ختم کر دیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی صدر محمود عباس اور وزیر اعظم اسماعیل ھنیہ نے اتفاق کیا ہے کہ وہ اپنی فتح اور حماس کے مسلح افراد پر زور ڈالیں گے کہ وہ غزہ کی سڑکوں ہٹ جائیں۔ اسماعیل ھنیہ کا کہنا ہے کہ وہ اپیل کرتے ہیں کہ سب پرامن رہیں اور اب بات چیت کے ذریعے قومی اتحاد پر مبنی حکومت تشکیل دی جائے۔ محمود عباس اور اسماعیل ھنیہ کے درمیان یہ ملاقات دو ماہ کے بعد جمعرات کو ہوئی ہے۔ ملاقات سے قبل شمالی غزہ میں مختلف دھڑوں کے درمیان جھڑپوں میں چھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ان جھڑپوں کی وجہ سے مخالف فرقوں کے درمیان دو ہفتے قبل ہونے والی فائر بندی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ دریں اثناء خبررساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ محمود عباس کو آٹھ کروڑ چونسٹھ لاکھ ڈالر کے ساتھ امن فوج بھی دینے کا ارادہ کر رہی ہے۔ رائٹرز نے امریکی حکومت کے دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان پیسوں سے ’فلسطینی اتھارٹی کے صدر کو مدد ملے گی کہ وہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے اپنے وعدے پورے کر سکیں اور یوں دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کر سکیں اور غرب اردن اور غزہ میں قانون نافذ کرتے ہوئے امن و امان قائم کر سکیں‘۔ اسماعیل ھنیہ نے اپنا بیرونی دورہ مختصر کر کے محمود عباس سے غزہ میں جمعرات کو ملاقات کی۔ انہوں نے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ فلسطین میں ہونے والی حالیہ جھڑپوں کی تحقیقات کروائیں گے۔ تاہم محمود عباس کی طرف سے اس ملاقات کے بعد کوئی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔ | اسی بارے میں پانچ ہلاکتوں کے بعد امن کوششیں04 January, 2007 | آس پاس لڑائی بند کریں، ھنیہ کی اپیل19 December, 2006 | آس پاس فلسطینی گروپوں میں ’سمجھوتہ‘17 December, 2006 | آس پاس انتخابات کی تجویز، امریکی خیرمقدم17 December, 2006 | آس پاس انتخابات کی تجویز، غزہ میں ہنگامے17 December, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||