بات چیت معاہدے کے بغیر ختم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور جلاوطن سیاسی رہنما خالد مشعل کے درمیان شام میں ہونے والی اہم ملاقات قومی وحدت کی حکومت کے قیام کے معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی ہے۔ اس ملاقات میں قومی حکومت اور فلسطینی دھڑوں میں اقتدار پر قبضے کے لیے جاری پرتشدد کوششوں کے خاتمے پر بات چیت ہو رہی تھی۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بات چیت آگے بڑھی ہے اور یہ کہ دو ہفتوں کے اندر مذاکرات پھر شروع ہوں گے۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ اگرچہ ان کے درمیان ابھی تک اختلافات موجود ہیں لیکن بات چیت کے ذریعے ان کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں ہونے والی یہ ملاقات محمود عباس کی الفتح جماعت اور حماس حکومت کے حامیوں کے درمیان کئی مہینوں سے جاری رابطوں کے نتیجہ تھی۔ اس سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے کہا تھا کہ اگر حماس قومی وحدت کی حکومت بنانے پر اتفاق نہیں کرتی تو وہ نئے انتخابات کا اعلان کر دیں گے۔ محمود عباس اور خالد مشعل کے درمیان آخری مرتبہ دو ہزار پانچ میں ملاقات ہوئی تھی۔ اتوار کی رات ہونے والی ملاقات بھی کئی بار تعطل اور التوا کے مراحل سے گزرنے کے بعد ممکن ہوئی۔ حماس نے الفتح کو پارلیمانی انتخابات میں ایک سال قبل واضح اکثریت سے شکست دی تھی۔ البتہ حماس کی جیت کے سبب عالمی امداد کا بائیکاٹ کر دیا گیا تھا جس سے فلسطینیوں کی اقتصادی حالت دگرگوں ہو گئی ہے۔
اب دونوں گروپ یعنی حماس اور الفتح قومی وحدت کی حکومت قائم کرنے کی کئی ماہ سے کوششیں کر رہے ہیں۔ بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی نے دمشق سے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ اگرچہ حکومت کی ہیئت کے حوالے سے بات چیت آگے بڑھی ہے لیکن اس بات پر اختلافات بدستور موجود ہیں کہ نئی حکومت کا اسرائیل کے بارے میں رویہ کیا ہونا چاہیے۔ محمود عباس کا گروپ مستقبل کی فلسطینی ریاست پر اسرائیل سے مذاکرات کا حامی جبکہ حماس اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے۔ بی بی سی نامہ نگار کے مطابق ایک ملاقات میں محمود عباس اور خالد مشعال کے درمیان اختلافات کم ہوجانے قدرے دشوار دکھائی دیتا ہے۔ لیکن دونوں رہنماؤں کو احساس دلایا گیا تھا کہ اگر محمود عباس، خالد مشعل سے ملے بغیر شام سے واپس چلے گئے تو فلسطینی عوام اور عالمی سطح پر انتہائی منفی تاثر پیدا ہوگا۔ حماس نے گزشتہ سال فلسطینی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے حکومت بنائی تھی۔ الفتح اور فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کا کہنا ہے کہ بہت سے ایسے معاملات ہیں جو ہم سب کو متاثر کرتے ہیں اور ’ہمیں بھائیوں سے‘ اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔ حماس کا کہنا ہے کہ ان کے ’لچکدار رویے‘ کے باوجود ’بیرونی عناصر‘ کی وجہ سے بحران ہوا ہے۔ محمود عباس نے وسط دسمبر میں کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو وہ نئے انتخابات کا اعلان کر دیں گے۔ حماس نے کہا تھا کہ ایسا کرنا بغاوت کے مترادف ہوگا۔ اس دوران حماس اور الفتح کے کارکنوں کے درمیان لڑائی میں تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ | اسی بارے میں مسلح فورس دوگنا کریں گے: حماس07 January, 2007 | آس پاس کونڈولیزا رائس، اولمرت ملاقات15 January, 2007 | آس پاس امریکی منصوبے پر سعودی حمایت16 January, 2007 | آس پاس عباس کے قتل کی سازش کا الزام16 January, 2007 | آس پاس غزہ میں اسرائیل کا ’غائبانہ ہاتھ‘18 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||