BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 January, 2007, 20:49 GMT 01:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بات چیت معاہدے کے بغیر ختم
 خالد مشعل
حماس کے رہنما خالد مشعل شام میں جلاوطنی میں ہیں
فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور جلاوطن سیاسی رہنما خالد مشعل کے درمیان شام میں ہونے والی اہم ملاقات قومی وحدت کی حکومت کے قیام کے معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی ہے۔

اس ملاقات میں قومی حکومت اور فلسطینی دھڑوں میں اقتدار پر قبضے کے لیے جاری پرتشدد کوششوں کے خاتمے پر بات چیت ہو رہی تھی۔

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بات چیت آگے بڑھی ہے اور یہ کہ دو ہفتوں کے اندر مذاکرات پھر شروع ہوں گے۔ دونوں رہنماؤں نے کہا کہ اگرچہ ان کے درمیان ابھی تک اختلافات موجود ہیں لیکن بات چیت کے ذریعے ان کا حل تلاش کر لیا جائے گا۔

شام کے دارالحکومت دمشق میں ہونے والی یہ ملاقات محمود عباس کی الفتح جماعت اور حماس حکومت کے حامیوں کے درمیان کئی مہینوں سے جاری رابطوں کے نتیجہ تھی۔

اس سے قبل فلسطینی اتھارٹی کے صدر نے کہا تھا کہ اگر حماس قومی وحدت کی حکومت بنانے پر اتفاق نہیں کرتی تو وہ نئے انتخابات کا اعلان کر دیں گے۔

محمود عباس اور خالد مشعل کے درمیان آخری مرتبہ دو ہزار پانچ میں ملاقات ہوئی تھی۔

اتوار کی رات ہونے والی ملاقات بھی کئی بار تعطل اور التوا کے مراحل سے گزرنے کے بعد ممکن ہوئی۔

حماس نے الفتح کو پارلیمانی انتخابات میں ایک سال قبل واضح اکثریت سے شکست دی تھی۔ البتہ حماس کی جیت کے سبب عالمی امداد کا بائیکاٹ کر دیا گیا تھا جس سے فلسطینیوں کی اقتصادی حالت دگرگوں ہو گئی ہے۔

محمود عباس اور خالد مشعل کے درمیان کئی ماہ کی کوششوں کے بعد اتوار کی ملاقات ممکن ہو سکی ہے

اب دونوں گروپ یعنی حماس اور الفتح قومی وحدت کی حکومت قائم کرنے کی کئی ماہ سے کوششیں کر رہے ہیں۔

بی بی سی کی نامہ نگار ریچل ہاروی نے دمشق سے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ اگرچہ حکومت کی ہیئت کے حوالے سے بات چیت آگے بڑھی ہے لیکن اس بات پر اختلافات بدستور موجود ہیں کہ نئی حکومت کا اسرائیل کے بارے میں رویہ کیا ہونا چاہیے۔

محمود عباس کا گروپ مستقبل کی فلسطینی ریاست پر اسرائیل سے مذاکرات کا حامی جبکہ حماس اسرائیل کا وجود تسلیم کرنے سے ہی انکاری ہے۔

بی بی سی نامہ نگار کے مطابق ایک ملاقات میں محمود عباس اور خالد مشعال کے درمیان اختلافات کم ہوجانے قدرے دشوار دکھائی دیتا ہے۔ لیکن دونوں رہنماؤں کو احساس دلایا گیا تھا کہ اگر محمود عباس، خالد مشعل سے ملے بغیر شام سے واپس چلے گئے تو فلسطینی عوام اور عالمی سطح پر انتہائی منفی تاثر پیدا ہوگا۔

حماس نے گزشتہ سال فلسطینی انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے حکومت بنائی تھی۔ الفتح اور فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس کا کہنا ہے کہ بہت سے ایسے معاملات ہیں جو ہم سب کو متاثر کرتے ہیں اور ’ہمیں بھائیوں سے‘ اس بارے میں بات کرنی چاہیے۔

حماس کا کہنا ہے کہ ان کے ’لچکدار رویے‘ کے باوجود ’بیرونی عناصر‘ کی وجہ سے بحران ہوا ہے۔

محمود عباس نے وسط دسمبر میں کہا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو وہ نئے انتخابات کا اعلان کر دیں گے۔ حماس نے کہا تھا کہ ایسا کرنا بغاوت کے مترادف ہوگا۔

اس دوران حماس اور الفتح کے کارکنوں کے درمیان لڑائی میں تیس افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد