BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 December, 2006, 00:36 GMT 05:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نصاب میں اسرائیلی سرحدوں پر تنازعہ
یولی تمیر
یولی تمیر وزیر اعظم اولمرت کے ساتھ ایک سکول کے دورے کے دوران
اسرائیلی وزیر تعلیم یولی تمیر کو اپنے اس بیان کے حوالے سے ملک کے بنیاد پرست عناصر کی سخت تنقید کا سامنا ہے کہ نصابی کتب میں اسرائیل کی جغرافیائی حدیں وہ دکھائی جانی چاہیں جو انیس سو سڑسٹھ کی جنگ سے پہلے تھیں۔

اطلاعات کے مطابق وزیر تعلیم نے نصاب میں مناسب تبدیلی کا حکم بھی جاری کر دیا ہے، لیکن وزیراعظم کے دفتر سے اس موضوع پر ابھی تک کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

اسرائیلی فوج کے ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے یولی تمیر کا کہنا تھا ’آپ بچوں کو تاریخ نہیں پڑھا سکتے جب تک انہیں نہ بتایا جائے کہ اسرائیل کی جغرافیائی حدیں کیا ہوا کرتی تھیں‘۔

دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمان یٹسہاک لیوی نے یولی تمیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نظام تعلیم کو سیاست کی نظر کر رہی ہیں۔

لیکن یولی تعمیر اس تنقید کے جواب میں کہتی ہیں ’انیس سو سڑسٹھ سے پہلے کی اسرائیلی سرحدوں کو نظر انداز کرنا بھی ایک سیاسی نقطہ نظر ہے‘۔

تاریخ کا ادراک
 آپ بچوں کو تاریخ نہیں پڑھا سکتے جب تک انہیں نہ بتایا جائے کہ اسرائیل کی جغرافیائی حدیں کیا ہوا کرتی تھیں
اسرائیلی وزیر تعلیم

موجودہ نصابی کتابوں میں انیس سو سڑسٹھ کی جنگ کے نتیجے میں اسرائیلی قبضے میں آنے والے علاقوں غرب اردن، غزہ، مشرقی یروشلم اور گولان کی پہاڑیوں کو اسرائیل کا حصہ دکھایا جاتا ہے۔

تاہم بین الاقوامی قوانین کے تحت ان علاقوں پر اسرائیلی تسلط کو غیر قانونی
تصور کیا جاتا ہے۔

یولی تمیر کا موقف مقبوضہ علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے نقطہ نظر اور مفادات سے براہ راست متصادم ہے۔ آبادکار اور ان کے حمایتی مقبوضہ علاقوں سے انخلاء کے اسرائیلی حکومت کے منصوبے کے سخت خلاف ہیں۔

یولی تمیر یہودی آباد کاری کے خلاف سرگرم ایک تنظیم ’پیس نؤ‘ یعنی فوری امن کی بانی ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق غرب اردن اور گولان کی پہاڑیوں پر باالترتیب چار لاکھ تیس ہزار اور بیس ہزار یہودی آباد ہیں۔ اسرائیل نے غرب اردن پر انیس سو سڑسٹھ اور گولان کی پہاڑیوں پر انیس سو اکیاسی میں قبضہ کیا تھا۔

نصابی کتب کا مسئلہ مشرق وسطیٰ میں ہمیشہ متنازعہ رہا ہے۔ انیس سو نوے میں طے پانے والے ’اوسلو امن معاہدہ‘ کے بعد سے اسرائیل مسلسل فلسطینی حکام پر تنقید کرتا آرہا ہے کہ ان کے ہاں پڑھائی جانے والی نصابی کتب میں اس (اسرائیل) کے وجود کو تسلیم نہیں کیا جاتا، جس سے فلسطینی بچوں میں اسرائیل مخالف نفرت جنم لیتی ہے۔

اسی بارے میں
فلسطینی پیشکش مسترد
24 November, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد