بشرالاسد کو اسرائیل سے دعوت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل کے نائب وزیر اعظم شمون پیریز نے کہا ہے کہ وہ شام کے صدر بشر الاسد کو براہ راست مذاکرات کے لیئے یروشلم میں خوش آمدید کہیں گے۔ تاہم ملک کے وزیر اعظم ایہود اولمرت نے اپنے آپ کو شمون پیریز کے اس بیان سے علیحدہ رکھا ہے۔ شمون پیریز کے اسرائیلی ٹیلی ویژن پر اس بیان سے ایک روز قبل شام کے صدر بشرالاسد نے کہا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت کے لیئے تیار ہیں۔ اولمرت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ شام کے صدر کو یروشلم آنے کی دعوت صرف نائب وزیر اعظم کی طرف سے دی گئی ہے۔ شام اور اسرائیل کے درمیان امن مذاکرات چھ سال قبل تعطل کا شکار ہو گئے تھے جب شام نے اسرائیل سے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ ختم کرنے کے لیئے کہا تھا جن پر اس نے 1967 کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔ | اسی بارے میں اسرائیل: جنگی مہم پر جائزہ کمیشن17 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ: ’40 افراد ہلاک‘07 August, 2006 | آس پاس اسرائیل کی دوہری مشکل01 August, 2006 | آس پاس ’عالمی فوج کی تعیناتی جارحانہ قدم ہوگا‘24 August, 2006 | آس پاس امریکی شکریہ: مگر الزام تراشی جاری13 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||