BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 September, 2006, 01:52 GMT 06:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی شکریہ: مگر الزام تراشی جاری
دمشق میں امریکیسفارت خانے پر حملے کو روکنے پر امریکہ کی جانب سےشام کے لیئے اظہارِ تشکر کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا کہ اب شام کو چاہۓ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی تعمیری کردار ادا کرے۔

اس امریکی ردِ عمل پر اقوام متحدہ میں شام کے سفیر عماد مصطفیٰ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جو بات ہوا دے رہی ہے وہ امریکی پالیسیاں ہیں۔

شام کے سفیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ مہینے لبنان میں جو کچھ ہوا، فلسطین میں جو ہورہا ہے، اور عراق میں جو کچھ جاری ہے یہ باتیں لوگوں کو انتہا پسندی اور امریکہ کے خلاف کارروائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

عماد مصطفٰے نے کہا: ’ہماری رائے میں اب امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہۓ۔‘

واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کا کہنا ہے کہ امریکہ اکثر و بیشتر شام پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کو لگام ڈالنے کی بجائے ان کی طرف داری کرتا ہے۔

شام کی سکیورٹی کی جانب سے امریکی سفارت خانے کی حفاظت پر امریکی شکریے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار واضح نہیں ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا امریکی وزیرِ خارجہ کی جانب سے اظہارِ تشکر کے بعد شام سے دہشت گردی کے خلاف تعمیری کردار ادا کرنے کو کہنا اور جواب میں اقوامِ متحدہ میں شام کے سفیر کا ردِ عمل اس بات کے عکاس ہیں کے ابھی بھی دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم ہونے کا امکان بہت ہی کم ہے۔ کم از کم فوری مستقبل میں ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد