امریکی شکریہ: مگر الزام تراشی جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دمشق میں امریکیسفارت خانے پر حملے کو روکنے پر امریکہ کی جانب سےشام کے لیئے اظہارِ تشکر کے بعد وائٹ ہاؤس کے ترجمان ٹونی سنو نے کہا کہ اب شام کو چاہۓ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی تعمیری کردار ادا کرے۔ اس امریکی ردِ عمل پر اقوام متحدہ میں شام کے سفیر عماد مصطفیٰ نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو جو بات ہوا دے رہی ہے وہ امریکی پالیسیاں ہیں۔ شام کے سفیر کا کہنا تھا کہ گزشتہ مہینے لبنان میں جو کچھ ہوا، فلسطین میں جو ہورہا ہے، اور عراق میں جو کچھ جاری ہے یہ باتیں لوگوں کو انتہا پسندی اور امریکہ کے خلاف کارروائی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔ عماد مصطفٰے نے کہا: ’ہماری رائے میں اب امریکہ کو مشرق وسطیٰ کے بارے میں اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی چاہۓ۔‘ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کا کہنا ہے کہ امریکہ اکثر و بیشتر شام پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کو لگام ڈالنے کی بجائے ان کی طرف داری کرتا ہے۔ شام کی سکیورٹی کی جانب سے امریکی سفارت خانے کی حفاظت پر امریکی شکریے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار واضح نہیں ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا امریکی وزیرِ خارجہ کی جانب سے اظہارِ تشکر کے بعد شام سے دہشت گردی کے خلاف تعمیری کردار ادا کرنے کو کہنا اور جواب میں اقوامِ متحدہ میں شام کے سفیر کا ردِ عمل اس بات کے عکاس ہیں کے ابھی بھی دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم ہونے کا امکان بہت ہی کم ہے۔ کم از کم فوری مستقبل میں ایسا ہوتا نظر نہیں آتا۔ | اسی بارے میں امریکی سفارت خانے پر حملہ ناکام12 September, 2006 | آس پاس ’عالمی فوج کی تعیناتی جارحانہ قدم ہوگا‘24 August, 2006 | آس پاس لبنان شام سڑک پر فضائی حملے01 August, 2006 | آس پاس سیاسی اصلاحات کروں گا: بشرالاسد21 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||