سیاسی اصلاحات کروں گا: بشرالاسد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شام کے صدر بشر الاسد نے کہا ہے کہ انہوں نے ملک میں سیاسی اصلاحات نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اصلاحات کس طرح کی ہوں گی۔ انہوں نے اپنے بیان میں صرف اتنا کہا کہ وہ اس عمل میں کسی بھی بیرونی مداخلت کو رد کردیں گے۔ وہ پانچ سیاسی قیدیوں کی رہائی کے بعد دمشق کے وکلاء سے بات چیت کررہے تھے۔ بشرالاسد نے اپنی اس تنقید کو دہرایا کہ سابق لبنانی صدر رفیق حریری کی ہلاکت کے بارے میں اقوام متحدہ کی تفتیش غیر جانبدار نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے پہلے فیصلہ کیا اور بعد میں شواہد کا جائزہ لیا۔ ان کا پرزور اصرار تھا کہ کہ وہ اس مقدمے میں گواہی دینے کے لیے کمیشن کی درخواست رد کردیں گے۔ شام کے صدر نے کمیشن پر زور دیا کہ فلسطینی صدر یاسر عرفات کی موت کے حالات و واقعات کی تحقیق کرے۔ نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگرچہ برہم وکلاء نے کئی مرتبہ ان کی تقریر میں مداخلت کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ بیرونی قوتیں شام اور عرب دنیا کو ٹارگٹ کررہی ہیں اور ان کے وسائل کنٹرول کرنا چاہتی ہیں۔ دمشق میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ 2000 میں صدارت سنبھالنے کے بعد سے اب تک اصلاحات کے دعوے تو کیے جاتے رہے ہیں لیکن عملی طور پر بہت کم اقدامات دیکھنے میں آئے ہیں۔ | اسی بارے میں احمدی نژاد شام کے دورے پر19 January, 2006 | آس پاس شام میں بغاوت ضروری ہے: خدام06 January, 2006 | آس پاس شامی پارٹی نے ’غدار‘ کو نکال دیا02 January, 2006 | آس پاس ’خدام پر بغاوت کا مقدمہ چلایا جائے‘01 January, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||