اسرائیل: جنگی مہم پر جائزہ کمیشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسرائیل نے لبنان میں اپنی حالیہ فوجی مہم کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیئے ایک کمیشن تشکیل دیا ہے۔ اس کمیشن کی تشکیل کا اعلان اسرائیلی وزیرِ دفاع عامر پیریز نے کیا۔ اس کمیشن کے سربراہ اسرائیلی فوج کے سابق سربراہ امنان لپکن شاہاک ہوں گے اور اسے تین ہفتوں میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ایک غیر جانبدارانہ کمیشن کا مطالبہ کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہیں فوجی کمیشن قبول نہیں۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے کمیشن کی تشکیل کا اعلان وزیراعظم ایہود اولمرت اور وزیرِ دفاع پیریز پر سیاست دانوں، ذرائع ابلاغ اور عوام کی اس تنقید کے بعد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس مہم کو صحیح طریقے سے سنبھالا اور غلط فیصلے کیئے۔ متعدد اخبارات نے عوامی رائے کے ایسے جائزے شائع کیئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دوتہائی اسرائیلی عوام اس بات کی تحقیق کے لیئے کمیشن کی تشکیل چاہتے ہیں کہ اسرائیلی فوج حزب اللہ کو شکست دینے میں کیوں ناکام رہی۔ نصف سے زائد عوام کا مطالبہ ہے کہ وزیرِ دفاع کو مستعفی ہو جانا چاہیئے اور فوجی مہم کو جاری رہنا چاہیئے تھا۔ اسرائیلی حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی مہم کے دوران فوجی کی رہائی اور حزب اللہ کی تباہی کے جو مقاصد وضع کیئے گئے تھے ان میں سے کوئی بھی پورا نہیں ہو سکا۔ اپوزیشن رہنما اور لیکود پارٹی کے لیڈرسلوان شالوم کا کہنا ہے کہ انکوائری کمیشن کی تشکیل وقت کا ضیاع ہے۔ انہوں نے کہا کہ’میرے خیال میں یہ انکوائری کمیٹی اندورنی بنیادوں پر بنائی گئی ہے اور یہ وزیرِ دفاع سے سوال نہیں کر سکتی کیونکہ انہوں نے خود اسے تشکیل دیا ہے‘۔ سابق اسرائیلی وزیرِ خارجہ شالوم کا کہنا ہے کہ’ ایک بیرونی جائزہ کمیشن بنایا جانا چاہیئے جو لبنان جنگ کے دوران اسرائیل کی دفاعی فوج کی کارکردگی اور تیاری کا جائزہ لے‘۔ | اسی بارے میں لبنان: فوجیوں کی تعیناتی، ائر پورٹ کھل گیا17 August, 2006 | آس پاس مشرق وسطیٰ میں طاقت کا نیا کھیل17 August, 2006 | آس پاس امن فوج کی قیادت فرانس کرے گا16 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||