BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 August, 2006, 10:51 GMT 15:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرق وسطیٰ میں طاقت کا نیا کھیل

خاموش ٹینک
مشرق وسطیٰ میں خوشی کے ایسے جذبات کچھ زیادہ دیرپا نہیں ہوتے۔
حالیہ لبنان جنگ کے بعد عرب دنیا میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کہ اس سے ناصرف اسرائیل بلکہ امریکی عزائم کو جن کے ذریعے وہ خطے کو تبدیل کرنا چاہتا تھا بھی دھچکہ لگا ہے۔

اس کا اظہار منگل کو شام کے صدر بشر الاسد کے خطاب سے بھی ہوتا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کی ’فتح‘ کے وسیع مضمرات ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا: ’ان کا نئے مشرق وسطٰی کا خاکہ جو تابع کرنے، بےعزت کرنے اور حقوق اور شناخت نہ دینے پر مبنی تھا اب ایک خواب بن گیا ہے‘۔

ایران میں صدر محمود احمدی نژاد نے، جوکہ خود بھی حزب اللہ کے حامی ہیں، بھی شام کے صدر جیسے ہی احساسات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ ’مشرق وسطیٰ کو اپنی جاگیر نہ کہ ایک آزاد مشرق وسطیٰ بنانے میں دلچسپی رکھتا تھا۔‘

حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصر اللہ نے بھی کامیابی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وہاں کامیابی نصیب ہوئی جہاں ’بڑی عرب فوجوں کو شکست ہوئی تھی‘۔

یہ باتیں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے موقف سے بالکل مختلف ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’حزب اللہ نے تنازعہ کا آغاز کیا اور حزب اللہ کو ناکامی ہوئی۔ جنوبی لبنان میں اب ایک نئی طاقت آئے گی۔‘

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شام کے صدر کی تقریر کو محض دھمکیاں کہتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ’میرے خیال میں شامی حکومت اپنے آپ کو ایک ماہ یا تین برس پہلے سے زیادہ اکیلا پا رہی ہے‘۔

لہذا اب جب جنگ ختم یا ملتوی ہوئی ہے تو مشرق وسطیٰ میں ایک نئی سیاسی جدوجہد کے لیئے لکیریں کھینچی جا رہی ہیں۔ اس کے نتائج خیال ہے کہ پہلے ایک یا دوسرے طریقے سے لبنان میں پہلے دیکھے جائیں گے۔

حزب اللہ کو فائدہ؟
 ابتدائی مدت میں حزب اللہ کی حمایت میں ہی اضافہ ہوسکے گا۔ وہ اسرائیلی کے سامنے ڈٹی رہی جبکہ اسرائیل کو اسے تباہ کرنے اور اپنے دو فوجیوں کو رہائی دلانے میں ناکامی ہوئی ہے۔

ممکن ہے کہ وزیراعظم فواد سینورا کی حکومت کو اسرائیلی سرحد تک لبنانی فوج اور بین الاقوامی امن فوج کی تعیناتی کے منصوبے پر عمل درآمد سے مزید مضبوط کیا جاسکے۔

ابتدائی مدت میں حزب اللہ کی حمایت میں ہی اضافہ ہوسکے گا۔ وہ اسرائیلی کے سامنے ڈٹی رہی جبکہ اسرائیل کو اسے تباہ کرنے اور اپنے دو فوجیوں کو رہائی دلانے میں ناکامی ہوئی ہے۔

لیکن امن منصوبے پر عمل درآمد کی صورت میں جنوبی لبنان میں حزب اللہ کا بطور ایک حاوی مسلح گروہ کے خاتمہ ہو جائے گا۔ حزب اللہ کا فوجی طور پر تو فائدہ نہیں ہوگا تاہم اسے سیاسی اور سماجی طور پر فائدہ ضرور ہوگا۔

اس صورتحال میں ان خدشات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ اس جنگ سے خطے میں جمہوری عمل کو دھچکہ لگ سکتا ہے۔ لندن میں چیتھم ہاؤس تھِنک ٹینک کی روز میری ہالیس کا کہنا تھا: ’جب کونڈولیزا رائس نے کہا کہ اس سے مشرق وسطٰی میں اے بریو نیو ورلڈ یا ایک نئی بہادر دنیا قائم ہوسکتی تو میں ششدر رہ گئی‘۔

ان کا مزید کہنا تھا: ’کیا انہوں نے نوٹ نہیں کیا کہ جب عراق خراب ہونے لگا تو سب کچھ خراب ہونے لگا۔ فلوجہ میں جمہوری عمل میں پیش رفت ختم ہوگئی۔ میرے لیئے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس علاقے میں حالات اس طرح بدلے جاسکتے ہیں‘۔

’بش اور بلیئر سمجھتے ہیں کہ جمہوری اور سیکولر درمیانہ طبقہ قیادت کرسکتا ہے مگر ان لوگوں کی جانب سے جواب ہے کہ آپ کو کوئی اندازہ نہیں کہ عراق میں جارحیت اور اب جنوبی لبنان میں اسرائیل کو کھلا چھوڑنے سے آپ یہ کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟‘

لبنانی فوجی
لبنانی فوجی جنوبی لبنان کی جانب جاتے ہوئے۔

’وہ اقلیت میں ہیں، مخمصے میں ہیں اور شدت پسندوں کے سامنے ہار رہے ہیں‘۔

اس بات کو یاد رکھنا بہتر ہوگا کہ مشرق وسطیٰ میں خوشی کے ایسے جذبات کچھ زیادہ دیرپا نہیں ہوتے۔ اس جنگ کے اثرات وقت کے ساتھ ظاہر ہونگے۔

اس خطے کی تاریخ ایسے لمحات سے بھری ہوئی ہے جوکہ ظاہر کچھ کرتے ہیں لیکن دراصل ہوتے کچھ اور ہیں۔ انیس سو اڑسٹھ میں دریائے اردن کے قریب فلسطینی جنگجوؤں نے اسرائیلی چھاپہ مار فورس کا زبردست مقابلہ کیا اور اسے ایک شاندار کامیابی قرار دیا۔ اس کامیابی کا آج تک جشن منایا جاتا ہے۔

اردن کے شاہ حسین نے بعد میں اعلان کیا کہ وہ سب فدائین ہیں۔ لیکن دو برس بعد انہوں نے ہی فلسطینیوں کو ریاست کے اندر ایک ریاست قرار دیا۔ وہ انہیں کے مخالف ہوگئے۔ انہوں نے اپنی فوج کی مدد سے ان پر یلغار کی اور انہیں بھاگنے پر مجبور کر دیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد