اسرائیلی حملہ: ’40 افراد ہلاک‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے وزیراعظم فواد سینیورا نے بتایا ہے کہ پیر کے روز جنوبی لبنان کے سرحدی گاؤں حولا میں اسرائیلی فوج کے ایک حملے میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ فواد سینیورا نے بیروت میں عرب لیگ ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کو بتایا کہ ’ایک گھنٹے قبل حولا نامی گاؤں میں ایک خوفناک قتل عام ہوا ہے جس میں 40 شہداء دانستہ بمباری کا شکار ہوئے ہیں۔‘ حولا میں ہونے والی اس بمباری کی تفصیلات ابھی موصول نہیں ہوئی ہیں۔ لیکن یہ حملہ ایک ایسے دن ہوا ہے جس دن دوسرے اسرائیلی حملوں میں کم سے کم پندرہ افراد ہلاک ہوگئے۔ لبنان پر اسرائیلی حملوں میں لبنانی حکومت کے مطابق گزشتہ ستائیس دنوں میں 1000 کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ حزب اللہ سے لڑائی کے دوران اور اسرائیل پر حزب اللہ کے حملوں میں 90 سے زائد اسرائیلی مارے گئے ہیں جن میں بیشتر فوجی ہیں۔
توقع ہے کہ آج جب سلامتی کونسل امریکہ اور فرانس کی مشترکہ قرارداد پر بحث شروع کرےگی تو عرب لیگ کے مشترکہ اعلامیہ میں حکومتِ لبنان کے اس مؤقف کی بھر پور حمایت سامنے آ جائے گی کہ لبنان میں فوری جنگ بندی کی جائے اور اس کے ساتھ ہی اسرائیلی فوج کا انخلاء بھی شروع ہو جائے اور یہ کہ جنگ بندی کی نگرانی اقوامِ متحدہ کے لبنان میں پہلے سے موجود امن د ستے اور لبنانی فوج اس وقت تک کرے جب تک نئی بین الاقوامی امن فوج کی تشکیل پر اتفاق نہ ہو جائے۔ ایک ایسے وقت میں جب عرب لیگ کا اجلاس جاری ہے اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان پر متعدد حملے کیئے ہیں جن میں چودہ لبنانی مارے گئے ہیں۔ لبنان کے تیسرے بڑے شہر سیدا کے قریب غسانیہ پر ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں ایک ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سات افراد مارے گئے ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں میں نشانہ بننے والی آبادیوں میں بعلبک بھی شامل ہے جبکہ اسرائیلی بمباری کے بعد طائر کا رابطہ باقی ملک سے کٹ گیا ہے۔ اسرائیلی طیاروں نے بیروت سے طائر جانے والی سڑک پر بمباری کر کے ملک کے شمالی علاقے سے شہر کا آخری رابطہ بھی منقطع کر دیا ہے۔ طائر کے اردگرد کئی مقامات پر بمباری کی اطلاعات ہیں۔ لبنان کے جنوبی قصبے ہُولہ سے بھی اسرائیلی دستوں اور حزب اللہ جنگجوؤں کے مابین لڑائی کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے ٹی وی چینل العربیہ کے حوالے سے بتایا ہے کہ بنتِ جبیل کے علاقے میں تین اسرائیلی فوجی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اتوار کو حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں بارہ فوجیوں سمیت پندرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے جو کہ جھڑپوں کے آغاز کے بعد سے ایک دن میں ہونے والا سب سے بڑا اسرائیلی جانی نقصان ہے۔ اس دوران اسرائیل کے نائب وزیراعظم شمعون پیریز نے یہ عندیہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیل لبنان سے قیدیوں کے تبادلے پر بات چیت کے لیئے آمادہ ہے۔ ہفتے کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کے اس مطالبے کو تو تسلیم نہیں کرے گا کہ پکڑے جانے والے دو فوجیوں کی رہائی کے بدلے ان لوگوں کو رہا کر دیا جائے جو اسرائیل کے علاقے میں داخلے کے بعد پکڑے گئے لیکن لبنانی حکومت سے اس معاملے پر بات چیت کے دروازے کھلے ہیں۔ |
اسی بارے میں لبنان: تازہ اسرائیلی حملے، شہری ہلاک07 August, 2006 | آس پاس لبنان مجوزہ قرارداد مستردکرتاہے:بیری06 August, 2006 | آس پاس فوجیوں سمیت 15 اسرائیلی ہلاک06 August, 2006 | آس پاس قرارداد توقعات پر پوری نہیں اتری06 August, 2006 | آس پاس متفقہ قرارداد میں ہفتوں لگ سکتے ہیں07 August, 2006 | آس پاس ’حالات ہمارے ہاتھ سے نکل چکے ہیں‘ 05 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملہ پسپا کیا ہے: حزب اللہ05 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||